حکومت گرانے کے اپوزیشن کے دعوے کھوکھلے نکلے: کامران خان

حکومت گرانے کے اپوزیشن کے دعوے کھوکھلے نکلے

لاہور (پاک صحافت) اپوزیشن کے دعوؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار کامران خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو اپلوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی آئی اسی طرح اقتدار میں باقی ہے تاہم اپوزیشن کے دعوے کھوکھلے نکلے۔اپوزیشن جماعتیں اب حکومت کے جانے کی کوئی اور تاریخ دیں۔

جب سے پی ٹی آئی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے اسی دن سے اپوزیشن نے خوب شور اور ہنگامہ برپا کر رکھا ہے ا ور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے لگاتے اپوزیشن کی گیارہ سیاسی جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر حکومت کو گرانے کے لیے اکٹھی بھی ہو گئیں۔آپ یقین کریں کہ یہ سیاسی اتحاد اس قدر غیر فطری تھا کہ اس میں ماضی کی دو بڑی حریف پارٹیاں بھی ایک پیج پر آ گئیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے: مریم اورنگزیب

پی ڈی ایم کی قیادت نے ببانگ دہل یہ دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر2020میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جائے گی مگر اب جنوری2021شروع ہو چکا اور عمران خان کی حکومت ابھی بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی ہے۔اپوزیشن کے انہی دعوؤں اور بڑھکوں کو یاد دلاتے ہوئے سینئر تجزیہ کار کامران خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ”خواب پھر خواب ہیں عوامی اجتماعات میں نہیں سنانے چاہیے مثلاً  2019 کے آخری مہینوں کی طرز پر 20 ستمبر  پی ڈی ایم تشکیل سے فضل الرحمن ان کے سیاسی بر خوردار بلاول وغیرہ قوم کو یقین دلا رہے تھے دسمبر جنوری تک حکومت کاخاتمہ ہوجائے گا افسوس خاتمہ ہوا حکومت کا نہیں PDM اعلانات کاعزائم کا“۔

ویڈیو میں اپوزیشن ارکان کے دعوے بھی سنائی دیتے ہیں کہ جس میں مولانا فضل الرحمان یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ دسمبر20میں عمران خان کی حکومت کا جنازہ نکل جائے گا۔جبکہ بلاول بھٹو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جنوری میں حکومت ختم ہو جائے گی بس ہمارے للکارنے کی دیر ہے اور اسی طرح مریم نواز نے بھی کئی بار دعویٰ کیا تھا کہ جنوری 2021میں عمران خان کی حکومت گر جائے گی۔

ان کہنا تھاکہ جب ہم اسلام آباد کی طرف رخ کریں گے تو پی ٹی آئی حکومت خود بخود گر جائے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ جب گزشتہ دنوں راولپنڈی میں پی ڈی ایم کی ریلی الیکشن کمیشن کے سامنے نکالی گئی تو وہاں شامل لوگوں کی تعداد دیکھ کر خاصی مایوسی ہوئی۔دسمبر اور جنوری تو گزر گئے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے جانے کی اب نئی کون سی تاریخ دیتی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں