بجلی چوری روکنے کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

اسلام آباد (پاک صحافت) بجلی صارفین کو فوری ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا، نگراں حکومت نے کی بجلی چوری روکنے کے لیے ایک ہفتے میں کابینہ اجلاس میں آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔آرڈیننس کے مسودے میں بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کو بھی بجلی چوری تصور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت ملک بھر میں انسداد چوری بجلی فورس قائم کریگی جس سے نہ صرف بجلی چوری پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ بجلی کے بلوں کی وصولی کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ بجلی چوری اور عدم ادائیگی کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔  حکومت نے لوگوں کی جانب سے اپنی چھتوں پر نصب سولر پینلز کی نیٹ میٹرنگ کے اقدام کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جیساکہ اس کی وجہ سے کپیسٹی چارجز کی ادائیگی میں اضافہ ہوا ہے جو مہنگے بلوں کا بنیادی ذریعہ ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے مالی سال 2023-24 میں صارفین سے 3.29 ٹریلین روپے وصول کرنے ہیں جس میں سے صارفین کو کپیسٹی چارجز کی مد میں 2 کھرب روپے ادا کرنے ہوں گے۔ ملک میں 41000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ 1000 میگاواٹ شمسی توانائی ملک بھر میں لوگ اپنی چھتوں پر تیار کر رہے ہیں اور اپنی اضافی شمسی توانائی حکومت کو فروخت کر رہے ہیں۔  1000 میگاواٹ کے سولر پینلز کی وجہ سے سسٹم کی بجلی فروخت نہیں ہو رہی اور اس کے نتیجے میں بجلی کے کیپسٹی چارجز میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ

صدارتی انتخاب کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کو طلب

اسلام آباد (پاک صحافت) ملک میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے