برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے پر حریت کانفرنس نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کردیا

برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے پر حریت کانفرنس نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کردیا

سرینگر (پاک صحافت) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری مولوی بشیر احمد نے مسئلہ جموں وکشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے پر برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کے پر امن حل میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولوی بشیر احمد نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر ممبران کی جانب سے غوروخوص کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قراردیا جس سے سفارتی سطح پر دیرنہ تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے دور رس نتائج بر آمد ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر جاری حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں، قتل و غارت، ایذا رسانیوں، خواتین کی بے حرمتیوںاور اندھا دھند گرفتاریوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں تاکہ مودی کی قیادت میں بھارت کی فسطائی حکومت کو کشمیریوں کے انسانی حقوق اور اٴْن کے حق خودارادیت کا احترام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

مولوی بشیر احمد نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموںوکشمیر میں اپنے غیر جمہوری ، غیر آئینی اور غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے دنیا بھر میں بے نقاب ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت جس طرح جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اس سے اس کے دعو?ں کی قلعی کھل گئی اوراب جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی مکمل بحالی اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا فیصلہ خود کرنے کا مکمل اختیار دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں زیربحث لانے پر ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ اداکرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں