بھارتی مسلمانوں کے خلاف نئی سازش کا آغاز، رام مندر کی تعمیر کے لیئے چندہ وصولی کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے

بھارتی مسلمانوں کے خلاف نئی سازش کا آغاز، رام مندر کی تعمیر کے لیئے چندہ وصولی کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے

لکھنئو (پاک صحافت) بھارتی شہر ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے کی متنازع مہم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کی نئی لہر سے مسلمانوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمراں جماعت بی جے پی کی اتحادی تنظیم وشوا ہندو پریشد نے مندر کے لیے چندہ جمع کرنے کی 45 روزہ ملک گیر مہم شروع کی ہے، جس میں مسلمانوں سے بھی چندہ وصولی کی جا رہی ہے۔

اتر پردیش کے ضلع بستی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ابرار الحق کے مطابق ہندو تنظیموں کے کارندے چندہ مہم کی آڑ میں مسلم اکثریتی علاقوں میں ریلی نکالتے ہیں اور مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے علاقوں میں نہ صرف کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ مسلم اقلیت شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد سے متعلق متنازع فیصلے کے بعد مسلمان مندر کی بحث کو بھولنا چاہتے ہیں، تاہم ہندو گروہوں کی جانب سے تفرقہ بازی اور اشتعال انگیز مہمات کے ذریعے ایک بار پھر فسادات جیسی کشیدہ صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وشوا ہندو پریشد کی اس چندہ مہم سے پہلے دسمبر کے آخر میں مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں چندہ جمع کرنے کی کوشش میں جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

اندور میں مسلم اکثریتی گاؤں چندن کھیڑی کا رہائشی صدام پٹیل اپنے 4 بھائیوں کے ساتھ پرتشدد واقعے میں زخمی ہوگیا تھا، انہوں نے بتایا کہ ہم اپنے گھر میں موجود تھے کہ ہجوم نے اچانک حملہ کردیا اور گھر کو آگ لگادی۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مسلمان انتہائی خوف کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب وشوا ہندو پریشد نے تشدد کا الزام مسلمانوں ہی پر عائد کردیا ہے، انتہا پسند تنظیم کے جنرل سیکرٹری سریندرا کمار جین نے کہا کہ مسلمانوں نے گاؤں میں چندہ جمع کرنے کے لیے جانے والے کارکنوں پر حملہ کیا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی مندر کی تعمیر کی آڑ میں ہندو مسلم کشیدگی پیدا کرکے انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں