مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے کشمیریوں کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی: حریت کانفرنس

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے کشمیریوں کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی: حریت کانفرنس

مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموں و کشمیر نے کہا ہے کہ خونریزی اور ماتم کشمیریوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے کیونکہ مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارت نے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قتل عام، ماورائے عدالت قتل، شبانہ چھاپے اور تشدد ایک معمول بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے جب مودی کی فرقہ پرست حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے علاقے میں فوجی محاصرہ کیا، 290 سے زائد کشمیری شہید اور 1500 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی فوجی اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے کشمیریوں کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حقوق کی بے دریغ خلاف ورزیاں مہذب دنیا کے لئے ایک چیلنج ہے۔

دریں اثناء بھارتی پولیس نے ایک حریت کارکن مشتاق احمد کنڈو کے نوعمر بیٹے اور بیٹی کو سوشل میڈیا پوسٹ پر سرینگر کے ہمہامہ پولیس اسٹیشن میں طلب کرکے ہراساں کیا۔

محمد سلیم زرگر کی سربراہی میں تحریک مزاحمت کے وفدنے سرینگر کے علاقے آنچار میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کے دوران بھارتی پولیس کی اس کارروائی کی مذمت کی۔

جموں و کشمیر یوتھ سوشل فورم اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے وفود شہید ظہیر احمد اور غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری نوجوان فیروز احمد ڈار کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اندر پلوامہ اور سوپور گئے۔

سرینگر اور دیگر علاقوں میںچسپاں کئے گئے پوسٹرز کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے حال ہی میں رچائے گئے انتخابی ڈرامے کو مسترد کیا گیا ہے۔

ضلع بڈگام کے علاقے وولینہ میں بھارتی ائر فورس کی ایک فائرنگ رینج سے چلائی جانے والی گولی سے ایک خاتون کے زخمی ہونے پر بھارت مخالف مظاہرے ہوئے۔ لوگوں نے بڈگام خانصاحب سڑ ک پر دھرنا دیا اور بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کیے، 65سالہ خاتون فاطمہ بیگم گولی لگنے سے اس وقت زخمی ہوئی جب وہ گھر کی چھت پر سبزی کاٹ رہی تھی۔

علاقے کے رہائشیوں کے مطابق سرینگر ائر پورٹ کے قریب واقع بھارتی ائر فورس کی فائرنگ رینج سے چلائی جانے والی گولیاں گائوں کے اکثر گھروں کی دیواروں کو جالگیں۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ رینج سے اکثر گائوں کی طرف فائرنگ کی جاتی ہے جسکی وجہ سے مقامی لوگوں کی زندگی شدید خطرے سے دوچار ہے۔

ادھر بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائر یکٹوریٹ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی 11کروڑ 86لاکھ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔

فاروق عبداللہ کی یہ جائیداد جموں اور سرینگر میں ہے، سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ پاکستان کے اپنے مطالبے میں سچے تھے اور بھارت قابل اعتبار ملک نہیں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں