اقتدار چھوڑنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا کارنامہ، کانگرس سے پاس ہونے والے دفاعی بل کو ویٹو کردیا

اقتدار چھوڑنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا کارنامہ، کانگرس سے پاس ہونے والے دفاعی بل کو ویٹو کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس سے حال ہی میں پاس ہونے والے 2021 کے لیے قومی دفاع کے 740 بلیئن ڈالر کے سالانہ اخراجات کے بل کو ویٹو کر دیا ہے۔

کانگرس میں اس بل کی حمایت سے قطع نظر صدر نے اس میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں قومی سلامتی کے کچھ انتہائی اہم اقدامات شامل نہیں کیے گئے۔

انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اس بل میں جنگوں میں حصہ لینے والے فوجیوں اور امریکہ کی عسکری تاریخ کے متعلق شقیں نہیں ہیں اور یوں یہ بل افواج کاخیال نہیں رکھتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ بل ان کی امریکہ کو قومی سلامتی اور خارجی امور کے معاملات میں فوقیت دینے کی پالیسی کے منافی ہے، ایوان نمائندگان کے نام ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بل چین اور روس کے لیے ایک تحفہ ہے۔

ٹرمپ کے ویٹو سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ گزشتہ چھ عشروں میں ایسا پہلی بار ہو گا کہ دفاع کا سالانہ بل قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکے گا۔

واضح رہے کہ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ویٹو کیے گئے آٹھ بلوں کو ان کے کانگرس میں ری پبلیکن حامی ممبران کی حمایت حاصل رہی ہے، لیکن اس بار کہا جا رہا ہے کہ صدر کے 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے کچھ ہفتے قبل کانگرس ان کے اس ویٹو کی مخالفت کرے گی۔

سینیٹ اور ایوان نمائندگان نے قومی دفاع کا بل دو تہائی اکثریت سے زیادہ ممبران کی حمایت سے پاس کیا تھا اور یہ تناسب صدارتی ویٹو کو رد کرنے کے لیے مطلوبہ ووٹوں سے زیادہ ہے۔

ویٹو کو برقرار رکھنے کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگرس میں درجنوں ری پبلیکن اراکین کو قائل کرنا ہو گا کہ وہ ان کا 4500 صفحات پر مشتمل سال بھر میں تیار کیے گئے اس بل کو ویٹو کرنے کے معاملے میں ان کا ساتھ دیں اور از سر نو اسے ترتیب دیں۔

دریں اثنا سینیٹ میں مسلح افواج کے امور کی کمیٹی کے چیئرمین جم انہوف نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے ری پبلیکن ساتھی اس ویٹو کو رد کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے۔

مشیروں کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس بل کے ویٹو کرنے سے کوئی خاص فائدہ حاصل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، البتہ ایسے اقدام سے جنوری پانچ کو جارجیا میں سینیٹ کی دو سیٹوں پر دوبارہ ہونے والے مقابلوں میں ری پبلیکن پارٹی کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹ نے اس بل کو 13 مخالف ووٹوں کے مقابلے میں 84 ووٹوں سے، جب کہ ایوان نمائندگان نے 78 کے مقابلے میں 335 ووٹوں سے پاس کیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں