عرب ریاستوں کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس، قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا

عرب ریاستوں کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس، قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا

عرب ریاستوں کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس ہوا جبکہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا سربراہی اجلاس 5 جنوری کو ہوگا۔

یاد رہے کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت کرنے والےسعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین نے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 2017 میں قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔

دوسری جانب دوحہ نے اس الزام کی تردید کی اور اپنے ہمسایہ ممالک پر الزام لگایا کہ وہ اس کی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بعد ازاں سعودی عرب نے تنازع کے حل کے لیے زور دیا تھا، بحرین نے ایک بیان میں کہا کہ جی سی سی کے وزرائے خارجہ 41 ویں اجلاس کے لیے تیار ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کویت، عمان اور بحرین کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ سلطان بن سعد نے قطر کی نمائندگی کی،تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا کوئی معاہدہ طے پایا ہے یا نہیں تاہم ایک عہدیدار نے بتایا کہ حتمی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اس اجلاس کے ذریعے معاہدہ طے پائے گا جس کے نتیجے میں بات چیت کے راستے واضح ہوں گے یا قطر کے لیے فضائی حدود کھولنے میں مزید ٹھوس اقدامات ہوسکتے ہیں۔

اس سے قبل تعلقات کی بحالی کے لیے قطر سے 13 مطالبات طے کیے گئے تھے جن میں الجزیرہ ٹیلی ویژن کی بندش، اخوان المسلمون اور ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے مطالبات شامل تھے۔

قابل ذکر ہے کہ 15 اگست کو قطر کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ خلیجی مملک کے مابین سفارتی بحران کی تمام تر کوششیں ناکام ہونے کے بعد جنوری کے اوائل میں انہیں معطل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کے مابین سیاسی اور تجارتی بحران کے حل کے لیے گزشتہ برس اکتوبر میں بات چیت کا آغاز ہوا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں