تھائی لینڈ

تھائی لینڈ میں شاہی محل کے قریب ریلی میں درجنوں مظاہرین زخمی

بینکاک{پاک صحافت} تھائی لینڈ میں شاہی محل کے قریب حکومت مخالف مظاہروں میں 30 سے زیادہ شہری اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرتے دیکھا گیا جبکہ لوگ آنسو گیس سے پناہ حاصل کرنے کے لیے ریسٹورانٹس میں پناہ لے رہے تھے۔

ایروان میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ 13 پولیس افسران اور 20 دیگر زخمی ہوئے۔

اتوار کے روز پولیس نے کہا کہ ان کے اقدامات بین الاقوامی معیار کے مطابق تھے اور 20 مظاہرین کو عوامی اجتماع کے قوانین توڑنے اور بادشاہت کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

بینکاک پولیس کے نائب سربراہ پیا تاویچائی نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘تشدد مظاہرین کی طرف سے شروع ہوا تھا اور پولیس کو قانون کا دفاع اور عوامی املاک کا تحفظ کرنا ہے’۔

مظاہرین نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے کچھ بھی کرنے سے قبل آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے پولیس کی طرف سے تشدد کا آغاز کیا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ان کے پاس ہیلمٹ، شیلڈز، ہجوم پر قابو رکھنے کی تربیت ہے، اگر کوئی پتھر مارے تو اپنی ڈھال اٹھائیں’۔

ہفتے کی رات ہونے والے احتجاج جس میں ہزاروں لوگ شریک تھے، میں بادشاہ کی تصاویر کو بھی ‘خراب’ کیا گیا۔

رواں ماہ حکومت مخالف مظاہرے میں 20 سے زیادہ مظاہرین زخمی ہوئے تھے۔

تھائی لینڈ کی نوجوانوں کی احتجاجی تحریک گزشتہ سال سامنے آئی تھی اور اس نے سب سے بڑا چیلنج ریٹائرڈ فوجی جنرل وزیر اعظم پریوتھ چن اوچا کی حکومت کے لیے کھڑا کیا ہے جنہوں نے ایک منتخب حکومت سے 2014 میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ایسی پالیسی اپنائی ہے جس سے فوجی بادشاہت والی اسٹیبلشمنٹ کا تحفظ ہوا اور 2019 کے انتخابات کے بعد انہیں اس کی وجہ سے دوبارہ اقتدار ملا۔

دوسری جانب وزیر اعظم اور ان کے حامی اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ظالم

ناروے نے نیتن یاہو کی گرفتاری کا اعلان کر دیا

پاک صحافت ناروے کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ صیہونی وزیر اعظم بنجمن نیتن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے