یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک غریب ہوتے جا رہے ہیں! آخر وہ کون سی مجبوری ہے کہ نیٹو کیف کا ساتھ دینے پر مجبور ہے؟

یوکرین

پاک صحافت نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یوکرین کے لیے مغربی فوجی اور مالی مدد یورپ کے عوام کو مہنگی پڑ رہی ہے۔

یوکرین میں جاری جنگ کی حقیقت اب دنیا کے سامنے آگئی ہے۔ اس جنگ کی آگ امریکہ اور یورپی ممالک نے لگائی ہے۔ لیکن اب خود امریکہ اور مغربی ممالک نے خود ہی شروع کی ہوئی جنگ کی آگ میں جلنا شروع کر دیا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ یورپی ممالک بالخصوص ان ممالک کے عوام کو مہنگی پڑ رہی ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کو کیف کو فوجی سامان کی فراہمی جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ امن برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ یوکرین کی حمایت ہے۔ جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک نے قیام امن کے نام پر اس پورے علاقے کو پریشان کر رکھا ہے۔ اسٹولٹن برگ نے خاص طور پر یوکرین کے لیے جرمنی کی امداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت نے کیف کو زیادہ تر فوجی امداد فراہم کی، جس میں فضائی دفاعی نظام اور توپ خانے جیسے ہووٹزر کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس نے اصرار کیا کہ "جرمن ہتھیار جان بچاتے ہیں۔” لیکن جب صحافیوں کی جانب سے ان سے پوچھا گیا کہ اسلحے کی فراہمی سے نہ صرف یوکرائنی عوام کی جانوں کو خطرہ ہے بلکہ خود جرمنی میں بھی عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں تو وہ اس پر خاموش رہے۔

ماسکو نے بارہا مغربی ممالک کو تنازعات میں ملوث ہونے کے خلاف خبردار کیا ہے، جب کہ یورپی یونین، امریکا اور نیٹو نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ یوکرائنی فوجیوں کی تربیت جاری رکھیں، انسٹرکٹرز اور ہارڈ ویئر یوکرین بھیجیں اور انٹیلی جنس فراہم کریں۔ معلومات فراہم کرنے کے باوجود دشمنی میں ملوث نہیں ہیں۔ تعاون روسی صدر کے پریس سکریٹری دمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کو مغرب کی طرف سے ہتھیاروں کی مدد سے روس یوکرین مذاکرات کی کامیابی میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے معاملے پر تمام ممالک کو سفارتی خط بھیجا تھا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ مسلح یوکرین روس کے لیے ایک جائز ہدف بن جائے گا۔ دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر امریکا اور یورپی ممالک نے یوکرین کو ہتھیار نہ دیے ہوتے اور جنگ پر اکسایا نہ ہوتا تو ماسکو اور کیف کے درمیان جاری اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ان ممالک نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تعطل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور جنگ کے شعلوں کو ہوا دے کر ہوا دی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں