برطانیہ

معاشی بحران سے نبرد آزما برطانیہ، عوام کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی

پاک صحافت توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے برطانیہ میں معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

برطانیہ میں مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے جس کے باعث اب عوام کے لیے دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں تقریباً آدھے گھرانے اپنی روزمرہ کی خوراک میں کمی کر رہے ہیں۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے برطانیہ میں معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے گیس، پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مختلف اشیاء کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں معاشی اور توانائی کے بحران کی وجہ سے لاکھوں لوگ اس موسم سرما میں اپنے گھروں کو کافی گرم رکھنے سے قاصر ہوں گے۔ اس طرح برطانیہ کے عوام کو سردی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء میں بھی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریباً 80 فیصد گھرانوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ وِچ نامی ایک صارف گروپ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق معاشی بحران کے مقابلے میں کافی اور غذائیت سے بھرپور کھانا کھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں مزدور مہنگائی کے مطابق اجرت کی عدم ادائیگی پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی مقامات پر مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ستمبر میں افراط زر 10.1 فیصد کی 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ مہنگائی کے نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں افراط زر 1982 کے اوائل کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پوٹن

پوٹن: عالمی معیشت پر ڈالر کے غلبے کا دور ختم ہو گیا

پاک صحافت روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ بین الاقوامی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے