روس

کیا دنیا تباہی سے ایک قدم دور ہے؟ روس نے وارننگ جاری کر دی، میکرون کی پوتن سے بات چیت

پاک صحافت روس اور یوکرین کے درمیان محاذ آرائی کے درمیان فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر فون پر ایک دوسرے سے بات کی ہے۔ اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے کریملن نے کہا کہ صدر پوتن اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو فون پر یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ جنوبی یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول زاپوریزیا جوہری پلانٹ پر یوکرین کی فوج کی جانب سے گولہ باری کی گئی ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے صدور نے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کی ایک ٹیم کو جوہری پلانٹ بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔ کریملن کے مطابق اس گفتگو میں پوٹن نے میکرون کو عالمی منڈیوں میں روسی خوراک اور کھاد کی مصنوعات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

زاپوریزیادریں اثنا، کریملن نے کہا کہ صدر پیوٹن نے زاپوریزیا جوہری پلانٹ کے حوالے سے آیْی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ روس اور فرانس کے صدور نے اگلے چند دنوں میں دوبارہ فون پر بات کرنے پر اتفاق کیا۔ یوکرین کا زاپوریزیا یورپ کی سب سے بڑی جوہری تنصیب ہے اور دنیا کی 10ویں نمبر پر ہے۔ روس نے 24 فروری کو خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کے فوراً بعد یوکرین کا کنٹرول سنبھال لیا۔ یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ روس نے جوہری پلانٹ کے ارد گرد بھاری ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں۔ یوکرین کے اعلیٰ جوہری اہلکار نے دعویٰ کیا کہ جوہری پلانٹ میں 500 روسی فوجی اور 50 بھاری ہتھیار موجود تھے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ روس اور یوکرین ان حملوں کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیوزیلینڈ

نیوزی لینڈ نے اسرائیل کے جرائم سے منسلک حماس کے اثاثے منجمد کر دیے

پاک صحافت نیوزی لینڈ نے فلسطین کے خلاف مغربی پالیسیوں کے مطابق اور غزہ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے