مہنگائی بھی بڑھے گی احتجاج نہیں کرنے دیں گے، مودی سرکار کے خلاف کالے کپڑوں میں آنے والے کانگریسی کئی لوگ گرفتار

نئی دہلی {پاک صحافت} جمعہ کو کانگریس نے ہندوستان میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس جمعے کو ملک بھر میں احتجاج کر رہی ہے۔ راجدھانی دہلی میں زبردست مظاہروں کے درمیان کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان کے علاوہ ششی تھرور اور سچن پائلٹ سمیت دیگر کانگریس لیڈروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے راہل گاندھی نے دہلی کے وجے چوک پر کہا، ’’کانگریس کے تمام ارکان اسمبلی مہنگائی کے معاملے پر راشٹرپتی بھون کی طرف مارچ کر رہے تھے لیکن پولیس ہمیں یہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔‘‘ ہمارا کام عوام کے مسائل اٹھانا ہے۔ کچھ ممبران پارلیمنٹ کو حراست میں لیا گیا اور ان کی پٹائی بھی کی گئی۔

مہنگائیاس کے ساتھ ہی احتجاج کرنے والے کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولس جس طرح کا سلوک کر رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے، آمریت پوری طرح نافذ ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی مودی سرکار کے رویے سے یہ بھی لگتا ہے کہ جیسے وہ کہہ رہی ہے کہ ہم مہنگائی بھی بڑھائیں گے اور اس کے خلاف مظاہرے نہیں ہونے دیں گے۔ اس دوران کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی احتجاج میں شامل ہونے پہنچ گئیں۔ اس دوران جب اسے آگے بڑھنے سے روکا گیا تو وہ رکاوٹیں عبور کر کے آگے بڑھ گئی۔ اس کے بعد وہ سڑک پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئی۔ اسی دوران کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کالے کپڑے پہن کر پارلیمنٹ پہنچے اور ایوان کے ویل میں جا کر نعرے بازی کی۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی نے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ کیا۔ راجیہ سبھا کی کارروائی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی کیونکہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں کانگریس کے ارکان نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال پر ہنگامہ کیا۔ جانکاری کے مطابق کانگریس قائدین پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کررہے ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اراکین اور سینئر لیڈروں نے ‘پی ایم ہاؤس گھیراؤ’ میں حصہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جب کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ سے ‘چلو راشٹرپتی بھون’ تک مارچ کرنے والے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں