برطانیہ آگ سے کھیل رہا ہے، یوکرین کو جدید ہتھیاروں سے لیس، اب تک کی سب سے خطرناک مدد

برطانیہ

لندن {پاک صحافت} برطانیہ یوکرائنی جنگ میں ایندھن ڈالنے کے لیے کام کر رہا ہے جب کہ یورپ یوکرائنی جنگ کو کسی حد تک طول دینے میں کامیاب نظر آتا ہے۔

برطانیہ یوکرائنی جنگ میں ایندھن ڈالنے کے لیے کام کر رہا ہے جب کہ یورپ یوکرائنی جنگ کو کسی حد تک طول دینے میں کامیاب نظر آتا ہے۔

جنگ کے آغاز سے ہی برطانیہ یوکرین کی ہر ممکن مدد کرتا رہا ہے۔ برطانیہ یوکرین کو جدید ترین سٹورمر میزائل لانچرز فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ میزائل لانچر روس کے لڑاکا جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے میں یوکرین کے لیے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ مغرب کی جانب سے یوکرین کے لیے اب تک کی سب سے مہلک فوجی امداد تصور کی جاتی ہے۔

اس 13 ٹن وزنی فوجی گاڑی کو چلانے کے لیے صرف تین افراد کی ضرورت ہے۔ یہ ڈرائیور، کمانڈر اور گنر پر مشتمل ہے۔ اسے ایک ٹرانسپورٹ طیارے میں لاد کر چند دنوں میں یوکرین بھیجا جا سکتا ہے۔ ایک خبر کے مطابق یوکرین کے وفد نے تقریباً دو ہفتے قبل سٹورمر میزائل لانچر کا معائنہ بھی کیا تھا۔

اسٹارمر میزائل لانچر کو کندھے پر لے جا کر یا ٹینکر میں داغے جاتے ہیں۔ فائرنگ کے بعد یہ تین حصوں میں بٹ جاتا ہے اور بیک وقت کئی اہداف کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ آواز کی رفتار سے تین گنا زیادہ سفر کرتا ہے اور کم اونچائی پر پرواز کرنے والے دشمن کے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

روسی حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن یورپ اور مغرب کے سینئر رہنما تھے جنہوں نے کیف کا خفیہ دورہ کیا۔

روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد ہی برطانیہ یوکرین کو فوجی سازوسامان دے رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پیوٹن یوکرین کی حمایت جاری رکھنے پر برطانیہ سے سخت ناراض ہیں۔

حال ہی میں روسی فوج نے یوکرین میں جنگ کے دوران دو برطانوی جنگجوؤں کو پکڑ لیا ہے۔ اس کے بعد روسی ٹی وی چینلز میں ان جنگجوؤں کی ویڈیوز دکھائی گئیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں