ایران کے بہادر سپاہیوں نے امریکی فوجیوں کے غرور کی ہوا نکال دی، امریکی فوجی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے

امریکی فوجی

پاک صحافت محترم قارئین، کیا آپ جانتے ہیں کہ 12 جنوری 2016 کو کیا ہوا؟ یہ وہ دن تھا جب ایران کے بہادر سپاہیوں نے خلیج فارس میں 10 امریکی فوجیوں کو گرفتار کر کے ہسپتال میں داخل کرایا تھا۔ امریکی فوجیوں کو کیوں اور کیسے گرفتار کیا گیا؟

12 جنوری 2016 کو اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اپنی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے یا یوں کہیے کہ جس دن وہ خلیج فارس میں ایران کے بارے میں ڈینگیں مار رہے تھے، بہادر فوجیوں نے 10 امریکی میرینز کو گرفتار کر لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتار امریکی فوجی کہہ رہے تھے کہ وہ کویت جا رہے تھے اور راستہ بھول کر ایران کے پانیوں میں آ گئے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ جب ایران کے بہادر سپاہیوں نے امریکی فوجیوں کو گھیرے میں لے لیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود دیگر امریکی فوجی ان کی مدد کو پہنچے اور کہا کہ یہ بین الاقوامی پانی ہے اس لیے انہیں یہاں ہونا چاہیے۔ یہ درست نہیں ہے لیکن ایرانی فوجیوں کا جواب تھا کہ یہ بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایرانی پانی ہے اور ایرانی پانیوں میں داخل ہونے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

امریکی فوجی اپنے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لیے کسی بھی حالت میں نہیں تھے، اس لیے انھوں نے 20 میل دور امریکی جنگی جہاز سے مدد طلب کی اور اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے کئی ہیلی کاپٹر آئے اور ایران کی تیز رفتار کشتیاں K صرف 300 میٹر کے فاصلے پر رک گئیں اور مطالبہ کیا۔ امریکی فوجیوں کو رہا کر دیا لیکن خدا کے شیروں نے ان کے غیر معقول مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو امریکی فوجیوں نے طاقت کے استعمال کی دھمکی دی تو لا یفتہ الا علی کے شیروں نے کہا کہ تم اور تمہارے جنگی جہاز ہمارے میزائلوں سے نشانہ بنے ہیں اور ہم پوری طرح سے ہیں۔ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ جب امریکی فوجیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایرانی فوجیوں سے ٹکرانے کا مطلب ان کی موت کی ضیافت ہے تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔

رونا

جب پوری دنیا بالخصوص امریکیوں نے یہ منظر ٹی وی پر دیکھا تو ان کے دل کو معلوم ہو گا کہ ان پر کیا گزری ہو گی۔ امریکہ نے ایران سے معافی مانگی تو ایران نے امریکی فوجیوں کو رہا کر دیا۔ گرفتار ہونے والے امریکی فوجیوں میں سے ایک پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ ان کی اس حرکت سے امریکی فوجیوں کی بہادری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جب امریکی فوجی کا یہ حال ہو کہ وہ ایرانی فوجیوں کو دیکھ کر رونے لگے تو پھر وہ ایرانی فوجیوں سے کیا لڑے گا؟

تاہم جب امریکی فوجیوں نے اپنی موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا اور وہ اپنے انجام کو سمجھ گئے تو انہوں نے ایرانی شیروں کو بڑے شوق سے قبول کیا اور ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔

رو رہا ہے

امریکی فوجی نے رک کر بتایا کہ ہو سکتا ہے پوری دنیا کے ممالک اور ان کی فوجیں ہم سے ڈرتی ہوں لیکن ہم ایرانی فوجیوں سے ڈرتے ہیں۔ آج امریکہ اور تسلط پسند طاقتیں جو ایران کے خلاف نت نئی سازشیں کر رہی ہیں اور تہران کے خلاف جو کچھ کر سکتی ہیں کر رہی ہیں، ان کی وجہ سے ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو ایک غیر منقولہ پہاڑ کی طرح ناقابل تسخیر حوصلے کے ساتھ پوری دنیا کے تسلط پسندوں کے خلاف کھڑا ہے۔ اور یہ ایران ہے جسے امریکہ سمیت دنیا کی تسلط پسند طاقتیں اپنے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایران امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے لگے تو سارا جھگڑا ختم ہو جائے گا لیکن ایران نے بالادستی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسینؑ کے ماننے والے وقت کا کوئی یزید نہیں کرتے۔

نوٹ: یہ ذاتی خیالات ہیں۔ پاک صحافت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں