عراق کے شہر بغداد میں خودکش بم دھماکا، 28 افراد ہلاک جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوگئے

عراق کے شہر بغداد میں خودکش بم دھماکا، 28 افراد ہلاک جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوگئے

بغداد (پاک صحافت)عراق کے شہر بغداد کے وسط میں واقع کمرشل علاقے میں دو خود کش بم دھماکوں میں کم از کم 28 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ خودکش جیکٹ پہنے ہوئے بمبار نے خود کو بغداد کے قلب میں واقع تیارن اسکوائر میں دھماکے سے اڑا لیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ حملے میں اب تک 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت بھی نازک ہے۔

سول ڈیفنس چیف میجر جنرل خادم سلمان نے بھی 28 افراد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس حملے کے پیچھے داعش ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں کم از کم 73 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو الرٹ جاری کرتے ہوئے اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے اور مزید حملوں کے خطرے کے پیش نظر اہم راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

میڈیکل ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق خود کش بمباروں نے تیارن اسکوائر میں واقع استعمال شدہ کپڑوں کی مارکیٹ کو نشانہ بنایا جس میں اس وقت لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔

کئی سالوں تک جاری رہنے والے فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات کے بعد بغداد میں خود کش دھماکوں کے سلسلے میں نمایاں کمی آئی تھی اور اس طرح کا آخری حملہ جون 2019 میں کیا گیا تھا۔

جنوری 2018 میں پارلیمانی انتخابات سے چند ماہ قبل تیارن اسکوائر میں کیے گئے خود کش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے، عراق میں عموماً انتخابات سے قبل پرتشدد واقعات، دھماکوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

عراق میں اس سال جون میں الیکشن شیڈول ہیں جو احتجاج کے سبب ایک سال پہلے منعقد ہو رہے ہیں البتہ حکام انتخابات کو اکتوبر میں منعقد کرانے کی تیاری کررہے ہیں تاکہ ووٹرز اور نئی جماعتوں کی رجسٹریشن کے لیے مزید وقت مل سکے۔

آج ہونے والے دھماکے کی ذمے داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی لیکن عموماً داعش اس طرح کے خود کش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرتی رہی ہے۔

عراق میں تین کی خونریز جدوجہد کے بعد 2017 میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے ملک کے ایک تہائی حصے کو چھڑا لیا گیا تھا۔

باضابطہ طور پر خاتمے کے باوجود ملک کے کچھ حصوں میں اب بھی داعش چھوٹے موٹے گروپوں کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں