روس میں اپوزیشن لیڈر کی حمایت میں شدید احتجاج، پولیس نے ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا

روس میں اپوزیشن لیڈر کی حمایت میں شدید احتجاج، پولیس نے ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا

ماسکو (پاک صحافت) روسی پولیس نے صدر ولادی میر پیوٹن کے ناقد اور اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے 1500 مظاہرین کو گرفتار کرلیا، غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں الیکسی ناوالنی کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔

رواں ماہ کے وسط میں اپوزیشن لیڈر کو جرمنی سے روس پہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا، بعد ازاں انہوں نے اپنے حامیوں سے احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حکام نے لوگوں کو احتجاج سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کورونا وائرس ہوسکتا ہے اور اگر احتجاج کیا گیا تو انہیں قانونی چارہ جوئی اور ممکنہ طور پر جیل بھی ہوسکتی ہے، تاہم مظاہرین نے پابندی اور سخت سردی کے باوجود زیر حراست اپوزیشن لیڈر کی رہائی کے لیے بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔

کووڈ انفو پروٹیسٹ مانیٹر گروپ کے مطابق کم از کم ایک ہزار 614 افراد کو گرفتار کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت ماسکو میں 300 اور سینٹ پیٹرزبرگ میں 162 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ 70 شہروں اور قصبوں میں جلسوں کے دوران گرفتاریوں کی اطلاع ہیں، حکام کے مطابق وسطی ماسکو میں تقریباً 4 ہزار افراد نے غیر مجاز ریلی میں حصہ لیا۔

اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی اہلیہ یولیا نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں ریلی میں حراست میں لیا گیا لیکن پھر رہا کردیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ موسم گرما میں الیکسی ناوالنی کو زہر دے دیا تھا جس کے بعد وہ پہلی مرتبہ روس پہنچے تھے اور انہوں نے جرمنی سے روانگی کے وقت اپنی گرفتاری کے امکان کو رد کردیا تھا۔

الیکسی ناوالنی کو معطل کی جانے والی سزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں ساڑھے 3 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے۔

روسی اپوزیشن لیڈر جس طیارے میں سوار تھے اسے ماسکو ایئرپورٹ پر لینڈ کرنا تھا لیکن آخری لمحات میں حکام نے طیارے کو کسی اور ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔

روسی صدر پیوٹن کے سب سے بڑے ناقد الیکسی ناوالنی کو اگست میں جہاز میں گرنے کے بعد کومے کی حالت میں طبی امداد کے لیے جرمنی منتقل کردیا گیا تھا۔

جرمنی میں ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ روسی اپوزیشن لیڈر کو نوویچوک کے طرز پر زہر دے کر جان سے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں