ڈونلڈ ٹرمپ بوکھلاہٹ میں اپنی ہی پارٹی پر برس پڑے، کہا ری پبلیکن اراکین کانگریس نے مجھے اکیلا چھوڑا دیا کسی کو معاف نہیں کروں گا

ڈونلڈ ٹرمپ بوکھلاہٹ میں اپنی ہی پارٹی پر برس پڑے، کہا ری پبلیکن اراکین کانگریس نے مجھے اکیلا چھوڑا دیا کسی کو نہیں چھوڑوں گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں اپنی ذلت آمیز شکست سے اتنے زیادہ بوکھلائے ہوئے ہیں کہ کبھی وہ امریکی سپریم کورٹ کو نااہل قرار دے رہے ہیں اور کبھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاکر اپنی شکست کو چھپانا چاہتے ہیں، لیکن اب وہ اتنا زیادہ دماغی توازن کھوچکے ہیں کہ اپنی ہی پارٹی کے خلاف محاذآرائی شروع کردی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے دعووں کا اعادہ کرتے ہوئے موجودہ دور کو امریکی تاریخ کا بدترین دور قرار دیا۔

انہوں نے ایک بار پھر ری پبلیکن سینیٹروں سے درخواست کہ وہ انہیں شکست سے بچانے کی کوشش اور دھاندلی کے حوالے سے ان کے دعووں کی حمایت کریں۔

ٹرمپ نے اس سے پہلے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ری پبلیکن اراکین کانگریس نے انہیں انتخابی معرکے میں تنہا چھوڑ دیا ہے اور وہ اس بات کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

امریکی صدر نے اپنے جدید ترین ٹوئیٹ میں دعوی کیا ہے کہ تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں لیکن افسوس ہے کہ عدالت اس معاملے پر غور کرنے کو تیار نہیں۔

اس سے قبل انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ انتہائی کمزور اور ناکارہ ثابت ہوا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایک ٹوئیٹ میں یہ بھی دعوی کرچکے ہیں کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کوئی سازشی تھیوری نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات تین نومبر کو کرائے گئے تھے جس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن تین سو چھے الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ انہیں صرف دو سو بتیس ووٹ ہی ملے ہیں۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور انہوں نے انتخابات میں دھاندلیوں کے دعوے کرتے ہوئے نتائج منسوخ کرانے کی غرض سے عدالتوں سے رجوع کیا ہے تاہم اب تک کئی ریاستوں میں انکی انتخابی عذر داریاں مسترد کی جا چکی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب منتخب صدر جو بائیڈن کو اقتدار کی منتقلی کا عمل جاری کئی ہفتے سے جاری اور بیس جنوری کو ان کی تقریب حلف برداری کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں