فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کا فیصلہ، متعدد تنظیموں نے اس فیصلے کی شدید مذمت کردی

فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کا فیصلہ، متعدد تنظیموں نے اس فیصلے کی شدید مذمت کردی

رام اللہ (پاک صحافت) فلسطین کی سول سوسائٹی کے لیے کام کرنے والی درجنوں تنظیموں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق نئے صدارتی آرڈیننس کو عدلیہ کی آزادی پر حمل قرار دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق سول سوسائٹی کی تنظیموں ‌نے ایک مشترکہ بیان میں‌صدر محمود عباس سے جوڈیشری سے متعلق نئے فرمان کو واپس لینے اور سنہ 2002ء کے عدلیہ کی آزادی اور بالادستی کے حوالے سے منظور کردہ قانون کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ محمود عباس آئینی طور پر اب منصب صدارت کے اہل نہیں ہیں، اس کے علاوہ عدلیہ سے متعلق کوئی نئی پالیسی فلسطین کی منتخب پارلیمنٹ کا کام ہے، پارلیمنٹ ہی کسی قانون میں تریم کی مجاز ہے، صدر عباس کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی من مانی کرتے ہوئے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قوم عدلیہ کی آزادی کے خلاف کوئی قانون قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی عدلیہ کے پر کاٹنے کی اجاز دی جائے گی، صدر عباس کی طرف سے عدلیہ کی خود مختاری کے خلاف جاری نیا آرڈیننس ناقابل قبول ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور صدر عباس کا نیا فرمان عدلیہ کی آزادی پر براہ راست اور خطرناک حملہ ہے، یہ فرمان عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ کے اختیارات کے حوالے سے اپنی حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی کا عدلیہ کے معاملے میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں، صدر عباس کی طرف سے عدلیہ کی آزادی مداخلت صدر کو حاصل اپنے اختیارات کا غلط استعمال اور دستور کی خلاف ورزی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں