گوگل

گوگل کو پانچ بلین ڈالر ہرجانے کا سامنا

کیلی فورنیا (پاک صحافت) کیا آپ جانتا ہیں کہ جدید ویب براؤزر میں ایک خفیہ سرچنگ طریقہ کار بھی ہوتا ہے جیسے کہ کروم میں “انکوگنیٹو موڈ”، اس آلے کےذریعے صارفین سرچنگ کی سرگرمی کو ریکارڈ کئے بغیر براوزر کو استعمال کرتا ہے، انکگنیٹو موڈ یہ کمنٹ کرتا ہے کہ آپ جب بھی اس نجی ونڈوز کو بند کرینگے تو آپ کا اسمارٹ فون یا کمپیوٹر میں اس کا کوئی سراغ نہ ہوگا۔ تاہم اب گوگل کو ’’انکوگنیٹو موڈ‘‘ یعنی پوشیدہ رہ کر سرچنگ کے آپشن کا فائدہ اُٹھا کر سرفنگ کرنے والے صارفین کو ٹریس کرنے پر پانچ بلین ڈالر کے ہرجانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ گذشتہ سال جون میں امریکا میں تین صارفین نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل انہیں اُس وقت بھی خفیہ طور پر ٹریک کرتا ہے اور ہمارا ڈیٹا جمع کرتا ہے جب وہ انکوگنیٹو آپشن یعنی “پوشیدہ ” سرچنگ کا آپشن استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ صارفین نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ گوگل کا پرائیوٹ ڈیٹا ٹریکنگ بزنس ہے جو صارفین کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگ سخت کرنے یا کروم میں پوشیدگی کا طریقہ استعمال کرنے کے باوجود نجی معلومات اور دیگر براؤزرز تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹا جمع کرتا رہتا ہے۔

واضح رہے کہ گوگل نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان دعووں کے خلاف “بھرپور طریقے” سے اپنا دفاع کرے گی، لیکن وہ قانونی چارہ جوئی کو ختم کرنے میں ناکام رہی۔ گوگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انکوگنیٹو کا مطلب پوشیدہ نہیں ہے اور موڈ کے استعمال کے ساتھ بھی صارف کی سرگرمیاں اُن ویب سائٹس پر بھی نظر آسکتی ہے جو وہ دیکھتے ہیں جب کہ کسی بھی تیسرے فریق کے تجزیات یا اشتہارات کی خدمات وزٹ کردہ ویب سائٹ استعمال کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے مقامی عدالت کے جج نے اس مقدمے کے فیصلے میں لکھا کہ گوگل نے صارفین کو پیشگی مطلع نہیں کیا تھا کہ وہ انگوگنیٹو موڈ میں بھی صارفین کا مبینہ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں ملوث ہے جس پر گوگل کو سخت قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو کہ 5 بلین ڈالر تک کے ہرجانے کا بھی ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ گوگل نے رواں سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ تیسری پارٹی سے باخبر رہنے والے “کوکیز” کو مرحلہ وار بنا رہے ہیں اور وہ کوکیز کو کسی ایسی جگہ سے تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جو ناگوار ہوسکتا ہے حالانکہ اس سے کمپنی کے اشتہاری کاروبار پر اثر پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں

واٹس ایپ

واٹس ایپ نے صارفین کیلئے عمر کی حد 16 سال سے کم کردی

(پاک صحافت) دنیا کی مقبول ترین میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کیلئے عمر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے