انٹرنیٹ

انٹرنیٹ کیبل سے زلزلوں کی پیمائش کا آغاز

کیلیفورنیا (پاک صحافت) گوگل کی جانب سے انٹرنیٹ کیبل سے زلزلوں کی پیمائش  پر کام شروع کر دیا گیا ہے، غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق گوگل نے عالمی سمندروں کے فرش پر بچھی ہزاروں کلومیٹر طویل انٹرنیٹ کیبل کو کامیابی سے زلزلہ پیما کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ہزاروں کلومیٹر طویل رقبے پر پھیلے ہوئے تارکو زلزلہ پیما بنایا جاسکتا ہے۔ حرالکاہل کے تہہ میں گوگل نے جدید ترین انٹرنیٹ کیبل کچھ عرصے قبل ہی بچھائی تھی۔ سمندری لہروں کی ہلچل اور دیگر تبدیلیوں کی وجہ سے یہ بہت درستگی سے زلزلوں کی پیمائش کرسکتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق  کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر زونگ وین زان اور گوگل کے ماہرین نے ٹریفک ڈیٹا، کیبل کی حرکات اور دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے سمندری طوفان اور زلزلوں کو شناخت کیا ہے۔ صرف نو ماہ کے دوران کیبل نے 30 سمندری طوفانوں اور 20 کے قریب زلزلوں کو کامیابی سے شناخت کیا ہے۔ سارے زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 تھی جو زمین پر عمارتیں ڈھانے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ لیکن جون 2020 میں میکسکو کے قریب 7.4 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ بھی نوٹ کیا گیا تھا ۔ خدشہ تھا کہ یہ سونامی پیدا کرے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

واضح رہے کہ فرانس میں زلزلے کے ایک ماہر اینتھونی سلاڈن کہتے ہیں کہ سمندری فرش پر زلزلہ ناپنے والے آلات رکھنا محنت طلب، وقت طلب اور مشکل کام ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ کیبل کو استعمال کرنا بہت عمدہ کاوش ہے۔ اس سے قبل سائنسدانوں نے فائبر آپٹک کیبل پر ارضیاتی سینسر لگائے تھے لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے ۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ کیبل کے دونوں کناروں پر لیزر ڈٹیکٹر لگائے جائیں جو ایک مشکل امر ہے لیکن انٹرنیٹ کیبل کی مدد سے زلزلوں کی پیمائش کے لیے کسی نئے آلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گوگل میپس

گوگل میپس میں ایک نیا کارآمد فیچر متعارف

(پاک صحافت) گوگل کی مقبول سروس میپس میں حالیہ مہینوں میں متعدد بڑی تبدیلیاں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے