لاہور جلسے سے پی ڈی ایم رہنماؤں کا اہم خطاب، کیا کہا جانیئے اس رپورٹ میں

لاہور جلسے سے پی ڈی ایم رہنماؤں کا اہم خطاب، کیا کہا جانیئے اس رپورٹ میں

لاہور میں پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے کا آخری جلسہ گزشتہ روز مینار پاکستان گراؤنڈ لاہور میں منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن قائدین نے کہاعوام نے جعلی تبدیلی دفن کردی، ڈائیلاگ نہیں، لانگ مارچ جنوری یا فروری، سلیکٹرز ان کا ساتھ چھوڑ دیںورنہ بڑا حادثہ ہوسکتا ہے، عوام کے حق حکمرانی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ ، طاقت ،حکومت صرف عوام کی ہوگی، دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا، ناجائزحکومت ختم کرکے دم لیں گے، بلاول بھٹو زرداری کاکہناہےکہ فون اور رابطہ کرنا بند کریں، اسلام آبادسے کٹھ پتلی بھگائیں گے، سلیکٹرز کو عوام کافیصلہ ماننا پڑے گا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ فرعون کے لہجے میں بات کرنیوالا اب خود این آر او مانگ رہا ہے،عوام تم سے پائی پائی کا حساب لیں گے،جعلی حکومت آنے سے پاکستان کی ترقی، آٹا، چینی ، سستی گیس و بجلی ،میڈیا کی آزاد ی، عوام کا روزگار کورنٹین ہوگیا۔

ادھر لاہورکے اپوزیشن جلسے میں متفقہ قراردادیں منظور کی گئیں جس میں مطالبہ کیاگیا کہ 18ویں ترمیم نہ چھیڑی جائے، وفاقی جمہوری، پارلیمانی نظام پر سمجھوتہ نہیںہوگا، لاپتہ افراد عدالتوں میں پیش ، بے گناہ رہا کیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے اوپر ایک ناجائز حکومت مسلط رہتی ہے اور اس ناجائز حکومت کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی تھی، اس ناجائز اقتدار کے لئے انہوں نے جو ایک گندہ کردار دا کیا تھا۔

ناجائز اور غیرآئینی کردار ادا کیا تھا، اس کے زخم اب گہرے ہوتے چلے جارہے ہیں، میں خطرہ محسوس کررہا ہوں کہ کہیں آنے والے دنوں میں ہمیں وہ حالات نہ دیکھنے پڑیں جہاں اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ پاکستانی عوام نظر آئیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوجائیں۔

یہ بڑے تشویشناک حالات ہوں گے، میں آج متنبہ کرنا چاہتا ہوں، میں آج اسٹیبلشمنٹ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے عوام کے مقابلے کے سامنے سے ہٹ جائیں، عوام کو اپنا راستہ دیجئے، عوام کوا سلام آباد پہنچنے دیجئے، پارلیمنٹ عوام کی ہے طاقت عوام کی ہوگی حکومت عوام کی ہوگی دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔

اسی عوام میں سے ادارے بنتے ہیں، اسی عوام میں سے عدلیہ بنتی ہے، اسی عوام میں سے پارلیمنٹ بنتی ہے، اسی عوام میں سے فوج بنتی ہے، اسی عوام میں سے دفاعی قوت بنتی ہے، اگر ادارے ایک دوسرے کے مقابلے میں آتے ہیں عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے تو پھر یہ قومی یکجہتی کبھی بھی برقرار نہیں رہ سکتی اور میں آنے والے دنوں میں اس پاکستان کے اندر ایک انارکی دیکھ رہا ہوں۔

ہمیں انارکی کی طرف جانے سے پہلے حالات کو سنبھال لینا چاہئے، آج 72سال گزرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کے نتیجے میں ہمارا ملک ایک غلام ملک کی طرح نظر آرہا ہے، ہم اپنی آزادی کھوبیٹھ رہے ہیں، آیئے آج عہد کریں ہم نے اس ملک کو آزاد رکھنا ہے، اس ملک کو عالمی اسٹیبلشمنٹ سے آزاد رکھنا ہے، ہمیں ایک آزاد قوم کی طرح دنیا میں اپنی شناخت پید ا کرنی ہے۔

اس حوالے سے ہم آج محسوس کررہے ہیں کہ جو کشمیر 73سال تک انڈیا اس کشمیر کو ہڑپ کرنے کی جرأت نہیں کرسکا آج ہندوستان نے کشمیر کو ہڑپ کرلیا، اس پر قبضہ کرلیا، اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں، یا عمران خان کی حکومت نے پاکستان کو اتنا کمزور کردیا ہے کہ ہم کشمیر کا تحفظ نہیں کرسکے ہیں یا یہ کہ پھر عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا ہے۔

کشمیر کو بیچا ہے، اگر آج وہ مگرمچھ کے آنسو بہارہا ہے تو میں بتادینا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے فارمولے الیکشن سے پہلے وہ نہیں دیتا رہا؟ پاکستان کے 72سال میں پاکستان کا اسٹیٹ بینک بیان دے رہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارا بجٹ زیرو سے نیچے چلا گیا ، سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی کم ہوگیا۔

معیشت کی یہ ابتری کہ آج غریب بیروزگار ہے، مہنگائی نے اس کی کمر توڑدی ہے، سرکاری اداروں سے تیس لاکھ سے زیادہ ملازمین برطرف کردیئے گئے ، ادارے کھوکھلے ہوچکے ہیں، دیوالیہ ہوچکے ہیں،انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کے تحت سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا خاتمہ کیا جائے گا اور ایک آزاد عدلیہ کے قیام کا تصور دیا جائے گا۔

آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئے اصلاحات اور اس کا انعقاد کیا جائے گا، عوام کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، صوبوں کے حقوق اور اٹھارہویں کا تحفظ کیا جائے گا، مقامی حکومتوں کا موثر نظام اور اس کا قیام ہمارے مقاصد میں ہوگا۔

اظہار رائے اور میڈیا کی ا ٓزادی کا تحفظ، انتہاپسندی اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ، مہنگائی بیروزگاری غربت کے خاتمے کیلئے ہنگامی معاشی پلان کا قیام، یہ ہمارے وہ بنیادی مقاصد ہیں جس کیلئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اتحاد ودجود میں آیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ جنوری کے آخر میں یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف پوری قوم مارچ کرے گی اور پارلیمنٹ کے استعفے ہم اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، ناجائز حکومت کو چلنے نہیں دیں گے، اس کا خاتمہ کر کے دم لیں گے اور ووٹ کی مقدس امانت عوام کو واپس دلا کر دم لیں گے۔

مریم نواز نے جلسے سے خطاب میں کہاکہ تین سال کون فرعون کے لہجے میں کہتا تھا کہ این آر او نہیں دوں گا لیکن اب خود این آر او مانگ رہا ہے لیکن نواز شریف اس کو این آر او نہیں دے گا،وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ 2011 میں آپ نے مینار پاکستان میں جلسہ کیا تھا۔

عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ جلسہ کس نے کروایا تھا، پھر 2013 کے انتخابات میں عبرت ناک شکست ہوئی تو تمہیں سمجھ آگیا کہ عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم بنوں گا نہیں تو تابعداری کرنے سے وزیراعظم بنوں گا، پھر کسی نے کہا کہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچاؤ، تم نے کسی کی مدد سے دھرنےدیئے تھے، نوازشریف نے اس سب کے باوجودلوڈ شیڈنگ ختم کی اور عوام کی خدمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پھر تمہیں نئی بات سوجھی اور کرپشن کا راگ الاپنا شروع کیا اور جسٹس کھوسہ نے تم کو کہا کہ میرے پاس درخواست لاؤ میں تمہاری مدد کرتا ہوں اور فکس میچ کے ذریعے تم نے نواز شریف کو اقامہ پر باہر نکلوایا۔

اس کو دھاندلی اور فکس میچ کے ذریعے حکومت مل گئی لیکن اس کے سلیکٹرز نہیں جانتے تھے کہ اتنا نالائق اور اتنانااہل نکلے گا اور آج کی نالائقی کا جواب اس کے سلیکٹرز کو دینا پڑ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ انسانوں پر خرچ کرنے کا وعدہ کرتا تھا لیکن آج ینگ ڈاکٹر، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، سرکاری ملازمین اور عوام سڑکوں پر ہیں۔

عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہتا تھا کہ بھیک نہیں مانگوں گا، قرضے نہیں لوں گا پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ اس تابعدار خان نے قرضوں کے نئے ریکارڈ لگا دیے اور ہمارے ملک پاکستان کو اس نے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔انہوں نے کہا کہ کہتا تھا کہ ایسا نظام لے کر آؤں گا کہ بڑے لوگوں کو قانون کے نیچے لے کر آؤں گا تو بٹ کڑاہی کو قانون کے نیچے لے کر آئے۔

مالم جبہ، ریپڈ بس جلتی زیادہ چلتی کم ہے، بلین ٹری سونامی، آٹا، چینی، ایل این جی مہنگی گیس کا اسکینڈل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک دن آئے گا کہ عوام تم سے پائی پائی کا حساب لیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ جب اس کے پاس نواز شریف کی باتوں کا جواب نہیں ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ نواز شریف غدار ہے اورمودی کا یار ہے لیکن کیا نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے، کیا اداروں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دے کر نواز شریف غداری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا مطالبہ غیر آئینی ہے، کیا آئین توڑنے والے مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنانا اور مطالبہ کرنا، کیا عوام کا مینڈیٹ چرانے والے کو چور کہنا غیرآئینی ہے، کیا الیکشن والے دن آر ٹی آیس نواز شریف نے روکا تھا۔

کیا فارن فنڈنگ نواز شریف کو ہوئی تھی، کیاکشمیر کو مودی کے حوالے سے نواز شریف نے کیا تھا ، کیا جسٹس شوکت عزیز سے مرضی کافیصلہ لینے کیلئے دباؤ نواز شریف نے ڈالا تھا، کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر جھوٹا ریفرنس نواز شریف نے بنوایا تھا۔

انہوں نے کہاکہ مجھے یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ لاہور کے تاریخی جلسے پر میڈیا کو فون آرہے ہیں کہ آپ نے یہ کہنا ہے کہ جلسہ ناکام ہوگیا اور لاہوریوں کو بھی پتہ ہے فون کہاں سے آرہے ہیں ہم سب جانتے ہیں لیکن وہ دشمن بھی جانتے ہیں کہ لاہوریوں نے آج مینار پاکستان کے سائے میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔

جب سے عمران پاکستان میں جعلی حکومت بنا کر آیا پاکستان کی ترقی کورنٹین ہوگئی ، چینی کورنٹین ہوگئی ، گندم کورنٹین ہوگئی، سستا آٹا کورنٹین ہوگیا بجلی اور سستی گیس کورنٹین ہوگئی ، پاکستان میں میڈیا کی آزاد ی کورنٹین ہوگئی۔

پاکستان میں عوام کا روزگار کورنٹین ہوگئی ، مریض کی دوائی کورنٹین ہوگئی ہے ،بتاؤ کویڈ 18 کا خاتمہ کرنے کے لیے تیار ہو نا۔انہوں نے کہاکہ وہ کہتا ہے جب حکمران چوری کرتا ہے تو اس کی کرپشن کی قیمت عوام مہنگائی سے ادا کرتے ہیں تو بتاؤ پھر آج چور کون ہوا ؟

کہتا تھا سڑکیں بنانے سے قوم نہیں بنتی قوموں کو تعلیم دینی چاہیے آج نوجوانوں سے طالب علموں سے اس نے سارے اسکالر شپ واپس لے لیے ہیں کیا ایک بھی نیا کالج نئی یونیورسٹی بنی ؟طالب علم آج بھی سراپا احتجاج ہیں کہتا تھا جو وزیراعظم ہاؤس ہیں لاہور کا گورنر ہاؤس ہے اس کو یونیورسٹی بناؤں گا بنی؟

یہ کہتا تھا کہ میں انسانوں پر خرچ کروں گا تو اس کی حقیقت بھی سن لو ینگ ڈاکٹرز، اساتذہ ، لیڈی ہیلتھ وکرر، سرکاری ملازمین سڑک پر ہیں پہلی بار تنخواہیں نہیں بڑھیں عوام سڑک پر اور صحت کا وعدہ بھی کر کے گیا تھا کہہ رہا تھا اسپتالوں پر خرچ کروں گا تو ہاتھ اٹھا کر بتاؤ کیا ایک بھی نیا اسپتال بنا ؟

یہ بھی کہتا تھا کہ پولیس کو غیر سیاسی کردوں گا پولیس کو ایسا غیر سیاسی کیا کہ بہنوئی کے پلاٹ کی خاطر کتنے آئی جی بدل دئیے ،کتنے پولیس والے بدل دئیے کتنی ایڈمنسٹریشن بدل دیں ، کون کہتا تھا پاکستان میں کروڑوں نوکریاں لاؤں گا کسی ایک کو نوکری ملی کسی ایک کو پچاس لاکھ گھروں میں سے گھر ملا۔

تم کو جانا ہوگا لاکھوں لوگوں کی نوکریاں تمہارے جھوٹے اور تباہ کن سونامی کی نذر ہوگئیں تم کو جانا ہوگا تم نے صنعت کو کاروبار کو تباہ کر دیا تم نے ہر طبقے کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا تمہیں جانا ہوگا کیوں کہ تم نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا تم کو جانا ہوگا تم نے تین سال میں ایک اینٹ تک نہیں لگائی۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سلیکٹرزسن لو آپ کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا، ہم اسلام آباد آرہے اور جعلی حکمران سے استعفیٰ لے لیں گے۔

مینار پاکستان میں پی ڈی ایم کے جلسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹرز کان کھول کر سن لو، آپ کو عوام کی آواز سننا پڑے گی، عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔

اب کوئی راستہ نہیں ہے، مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے، اب لانگ مارچ ہوگا، اسلام آباد! ہم آرہے ہیں، اسلام آباد پہنچ کر نااہل، ناجائز اور سلیکٹڈ وزیراعظم کا استعفیٰ چھین کر رہیں گے، ہم اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، فون کرنا اور رابطہ کرنا بند کریں، ہمارے درمیان کوئی دراڑ نہیں ہوگی اور ہم سب مل کر آپ کی کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔

اس حکومت کو بھگا کر پھر بات ہوسکتی ہے، آپ کو عوام کا فیصلہ سننا پڑے گا، گلگت سے لے کر لاہور، لاہور سے کراچی، کراچی سے کوئٹہ اورکوئٹہ سے پشاور تک ایک آواز گونج رہی ہے کہ میرے ووٹ پر ڈاکا نامنظور، لاہور پر ڈاکا، پنجاب پر ڈاکا، جمہور پر ڈاکا، آئین پر ڈاکا نامنظور۔

انہوں نےکہاہےکہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی جیت، فتح کی صبح انشاء اللہ جلد ہونے والی ہے، یہ کٹھ پتلی حکمراں، یہ سلیکٹڈ حکمراں گھر جانے والا ہے، ہمارے طالب علم، ہمارے تاجر، استاد، محنت کش سب پریشان ہیں کہ اگر ہمارا حال یہ تو مستقبل کیا ہوگا، ہمارا حال تاریک ضرور ہے مگر ہمارا مستقبل ، پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔

انہوں نے کہاکہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف جیل میں ہیں، سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ جیل میں ہیں، یہ لاہور کا مطالبہ ہے، یہ کراچی کا مطالبہ ہے کہ رہا کرو، رہا کرو، شہباز شریف کو رہا کرو، رہا کرو رہا کرو خورشید شاہ کو رہا کرو۔

انہوں نے کہاکہ غیرجمہوری قوت جسے ہم اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں جس کو میں سلیکٹر ز کہتا ہوں وہ آپ کے خلاف سازشیں کرتی رہی ہے، وہ اپنی من پسند حکومتیں بناتی رہی مگر اب ہم سب مل کر ایک آواز سے کہہ رہے ہیں کہ اس سلسلہ کو ختم ہونا پڑے گا۔

دوسری جانب میاں افتخارحسین نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیراہتمام مینار پاکستان گراونڈ پر جلسہ کے دوران مختلف قراردادیں پیش کیں جنہیں منظور کیا گیا۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی جو کئی ماہ سے لاپتہ ہیں، انکی جلد بازیابی کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے جائیں، اسکے ساتھ ساتھ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اگر وہ قصور وار ہیں تو ان پر مقدمے چلائے جائیں۔

قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جو بے گناہ ہیں انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی وفاقیت کی علامت ہے اسے کسی بھی صورت نہ چھیڑا جائے۔

صوبائی خودمختاری کو یقینی بنائی جائے اور چھوٹے صوبوں کو انکے حقوق دیے جائیں،پی ڈی ایم وفاقی جمہوری پارلیمانی نظام پر سمجھوتہ نہیں کرے گی،قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پمز اسپتال اسلام آباد میں جس آرڈیننس کے تحت ڈاکٹروں اورہسپتال ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے۔

اس کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ڈاکٹروں اور ملازمین کو ملازمتوں پر بحال کیا جائے، بلوچستان کے گوادر شہر کے گرد لگائی گئی باڑ کو جلد از جلد ہٹایا جائے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں