فلسطینی قوم کے خلاف جنگی جرائم اور بین الاقوامی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی

فلسطینی قوم کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے دہشت گرد ملک کی بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے مسلسل حمایت

قابض اسرائیل بطور ریاست خود کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی انسانی حقوق معاہدوں اوران کی دفعات سے بالاتر سمجھتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ صہیونی ریاست کو امریکی انتظامیہ کی مکمل اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔سنہ 2020 میں بھی مقبوضہ فلسطین میں جنگی جرائم اور بین الاقوامی جرائم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا اعتراف بھی  کررہا ہے، اسرائیل کے جنگی جرائم کے واضح ہونے کے باوجود عالمی برادری تاریخی طور پر بین الاقوامی طاقتوں کے مُتعصبانہ عدم توازن کی وجہ سے اسرائیل کو عملی طور پر جوابدہ نہیں بنا سکی ہے۔

اگر عالمی سطح پر اسرائیل کی مخالفت کی جاتی ہے یا اس کے جرائم پر آواز بلند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسرائیل کے حامی عالمی جادوگر اس کی حمایت پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

سنہ 1948 میں فلسطین کی حالت زار کے بعد سے اسرائیل جنگی جرائم، نسل کشی کے جرائم  2020 تک 72 سال سے جاری رکھے ہوئے ہے،  فلسطینیوں کے  گھروں کی مسماری، عام شہریوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل، قیدیوں کو مُسلسل ایذا رسانی،  القدس پر قبضے کو مستحکم کرنے، غزہ کا محاصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی توسیع اور ان کے غلبے کی سازشیں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی عدم فعالیت ،عرب اور علاقائی امداد کے خاتمے اور بین الاقوامی عدلیہ کی فلسطینیوں کے حوالے سے لا پرواہی نے صہیونی ریاست کو جنگی جرائم میں مزید جری کیا۔

ماہرین قانون کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے 2020 ء میں اسرائیل کے مقبوضہ فلسطین میں قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھنے کے باوجود عالمی عدالت کی طرف سے مسلسل خاموشی برتی جا رہی ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں نیوز بلیٹن اسرائیلی قانونی خلاف ورزیوں کے واقعات  پر بحث ہوئی ہے، اس کے باوجود بین الاقوامی اداروں کی طرف سے صہیونی ریاست کو جواب دہ نہیں بنایا جا سکا ہے۔

فلسطین کے قانونی ماہر صلاح عبد العاطی نے کہا کہ سال 2020 کے دوران  میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، بین الاقوامی قانون ، بین الاقوامی انسانی اصولوں اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔

غیر ملکی اخبار سے بات کرتے ہوئے انہوں ‌نے کہا کہ سال 2020ء کے دوران اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب کی مرتکب ہے۔ رواں سال کے دوران امریکا کے اندھے ویٹو اور اسرائیل کی بین الاقوامی برادری کی طرف داری کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

حال ہی میں بین الاقوامی قانونی اور انسانی سوسائٹی کے اداروں نے اقوام متحدہ کے فورم پر اسرائیلی ریاست کے جرائم کی مذمت اور کچھ قراردادوں کی منظوری کی شکل میں تحریک سامنے آئی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر عبدالکریم شبیر کا کہنا ہے کہ  فلسطین نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر اور فلسطین میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اختیارات کی وضاحت کرنے کا عدالتی فیصلہ جاری کیے بغیر متعدد رپورٹس اور یادداشتیں پیش کیں۔

انہوں نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام یا اداروں میں سے اب تک کوئی فرد یا ادارہ قابض ریاست کو اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مکمل شکایت داخل نہیں کرسکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین نے اسرائیل کو مُجرم قرار دینے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شکایات میں بیت المقدس میں خان الاحمر کے رہائشی  کو گھر بدر کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

سنہ 2016 میں جاری کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 جسے متعدد ممالک نے پیش کیا تھا میں اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دینے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں