کان کنوں کا قتل دہشت گردی کا بزدلانہ اقدام ہے: وزیر اعظم

ماحولیاتی معاملات کو حکومتوں نے نظرانداز کیا

اسلام آباد (پاک صحافت) وزیرِ اعظم عمران خان نے بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں 11 کان کنوں کے قتل کو ایک بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے کان کنوں کے قتل کی  شدید مذمت کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ مچھ  میں 11 کان کنوں کا قتل دہشت گردی کا بزدلانہ اقدام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  انہوں نے ایف سی کو ہدایت کی ہےکہ معصوم کان کنوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ معصوم کان کنوں کے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

مزید پڑھیں: جب تک ملک میں اسلامی قانون نافذ نہ ہو امن نہیں ہوگا: مولانا فضل الرحمان

مچھ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ شب مچھ کے علاقے گیشتری میں نامعلوم مسلح افراد نے کان کنوں کو حملے کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے پنڈل گڈ نامی لیز پر مسلح افراد نے کان کنوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کے علاوہ ان کے ہاتھ بھی باندھے اور بعد میں ان پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے کان کنوں کا تعلق شیعہ ہزارہ قبیلے سے ہے۔ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے علاوہ زخمی ہونے والے کان کنوں کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال مچھ منتقل کیا گیا ہے۔اہلکار کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم اب تک حاصل کی جانے والے شواہد کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نو افراد کی شناخت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کی شناخت ہوئی ہے ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے ان افراد کے گلے بھی کاٹے ہیں لیکن سیکرٹری داخلہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔انہوں نے یہ  بھی کہا کہ مچھ میں حملہ بزدلانہ اور غیر انسانی ہے، حکومت بے گناہ مقتولوں کے خاندانوں کو بے آسرا نہیں چھوڑے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں