مسئلہ کشمیر کا حل سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی بنیادی ذمہ داری ہے: مسعود خان

مسئلہ کشمیر کا حل سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی بنیادی ذمہ داری ہے

اسلام آباد(پاک صحافت) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرکا حل  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی بنیادی ذمہ اری ہے۔پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیاجا سکتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی موجودہ پارلیمان نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ملاقات میں پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی بھی موجود تھے۔ صدر آزادکشمیر نے پاکستان کی پارلیمان کی طرف سے مختلف مواقع پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو دنیا کے مختلف پارلیمانی فورمز پر اجاگر کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: بائیڈن افغان امن عمل کو آگے بڑھائیں:قریشی

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک حل طلب تنازعہ کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر گزشتہ بہتر سال سے موجود ہے اور اس تنازعہ کی وجہ سے نہ صرف ریاست جموں وکشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں میں لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی بلکہ پوری جنونی ایشیاء کا امن و سلامتی بھی داؤ پر لگا ہوا  ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر برطانوی دارالعوام میں حالیہ بحث اور ماضی قریب میں یورپین پارلیمنٹ اور امریکی کانگریس میں کشمیری عوام کے حق میں اٹھنے والی آوازیں اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری، پاکستان کی پارلیمان اور حکومت پاکستان کی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔

صدر سردار مسعود خان نے بھارتی حکومت کی طرف سے بھارت کی ریاست اتر پردیش میں قید اکیس کشمیری سیاسی قیدیوں کو آگرہ کے ہائی سکیورٹی جیل کے خصوصی سیل میں منتقل کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کی آگرہ جیل منتقلی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ان قیدیوں کو بھارتی حکومت نے اگست 2019میں کشمیر کی علامتی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے گزشتہ سولہ ماہ سے اتر پردیش کی ایک جیل میں رکھا ہوا تھا اور اب انہیں اچانک آگرہ کے ہائی سکیورٹی جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں