دھاندلی کی پیداوار حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے: احسن اقبال

دھاندلی کی پیداوار حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے

لاہور(پاک صحافت) پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکر ٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ دھاندلی کی پیداوار حکومت زیاد ہ دیر تک نہیں چل سکتی ہم ایسی حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لیں گے۔ عمران خان کیخلاف اسرائیل ،بھارتی فنڈنگ کے ثبوتوں کو چھپایا جارہا ہے،19جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے،پی ڈی ایم کی تحریک ٹائم ٹیبل کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اجلاس نے حکومتی دعوؤں پر پانی پھیر دیا ہے۔ کل کے اجلاس کے بعد پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا۔ ہمارا مقصد 70 سال سے جاری غلط نظام تبدیل کرنا اور  سیاست ، معیشت اور سیکیورٹی کی تکون کومضبوط کرنا ہے۔کیونکہ اسی فرسودہ نظام  نے ملکی معیشت کو مستحکم ہونے سے روک رکھا ہے۔پی ڈی ایم کی تحریک ٹائم ٹیبل کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: قبل از وقت سینیٹ الیکشن معاملہ، مریم نواز اور بلاول بھٹو نے شدید تنقید کردی

پی ڈی ایم کی تحریک حکومتی ہتھکنڈوں سے متاثر نہیں ہو گی۔ حکومت دھاندلی کی پیدا وار ہے اس کو گھر بھیج کردم لیں گے۔ 19جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے، عمران خان کیخلاف اسرائیل اور بھارتی فنڈنگ کے ثبوتوں کو چھپایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں،عمران کیخلاف فیصلہ 6 سال میں بھی نہیں ہوتا، نیب اور ایف آئی اے کرپشن کے دیگرکیسوں کا نوٹس کیوں نہیں لیتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پر الزام لگا کریہ لوگ اپنی کرپشن پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو مسلسل محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مزید برآں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے 3 ماہ اپوزیشن کے جلسوں پر توجہ دینے کے سوا کچھ نہیں کیا، منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرلیں ملنا کچھ بھی نہیں، نااہل ٹولے کو اتار کر ملک و قوم کی جان چھڑائی جائے گی۔

پی ڈی ایم کی تحریک سے عوامی دبا میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ گزشتہ روز پی ڈی ایم کے اجلاس میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ استعفے لانگ مارچ سے پہلے دینے چاہئیں، اس حوالے سے پیپلز پارٹی نے حالات کے مطابق موقف دیا۔ ہم استعفے دیں گے اور اسمبلیوں کو تحلیل کیا جائے گا، یکم فروری کو لانگ مارچ کا فیصلہ ہو گا، اسی میں پڑاؤ کا فیصلہ ہو گا، فیصلہ کن لانگ مارچ کے بعد استعفوں کا فیصلہ ہو گا۔

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں