حزب اختلاف کے لیڈران کے گھر اور دیگر ڈھانچے مسمار

حزب اختلاف کے لیڈران کے گھر اور دیگر ڈھانچے مسمار

لاہور (پاک صحافت) ایک دن تک جاری رہنے والے آپریشن میں پنجاب حکومت نے جوہر ٹاؤن کے قریب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں ایم این اے افضل کھوکھر اور سابق ایم پی اے سیف الملوک کھوکھرکے مکانات اور دیگر ڈھانچے مسمار کردیئے اور اڑتیس کنال اراضی بازیاب کروائی۔

مسلم لیگ (ن) اس اقدام کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حمایت کرنے والوں کو سزا دینے کے ایک انتہائی اقدام کے طور پر دیکھتی ہے۔آپریشن کے دوران تباہ شدہ ہونے والوں میں اکمل کھوکھر اور طاہر جاوید (افضل کھوکھر اور سیف الملوک کے قریبی رشتے دار) کے مکانات ، ایک مارکیٹ ، دیواریں اور دیگر ڈھانچے شامل تھے۔

مزید پڑھیں: کھوکھر برادری کے خلاف تجاوزات آپریشن، خواجہ سعد رفیق کا شدید ردعمل

چار اسسٹنٹ کمشنرز اور پولیس افسران کی سربراہی میں ٹیم نے ’مزاحمت‘ کرنے کے الزام میں بچوں سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا۔یہ کارروائی صبح چھ بجے کے بعد شروع ہوئی جب پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ایک ٹیم بھاری مشینری کے ساتھ موقع پر پہنچی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ٹیم کو آپریشن کو مکمل کرنے میں مدد فراہم کی جو تقریبا گیارہ گھنٹے جاری رہا۔

متعدد مقامی افراد موقع پر جمع ہوگئے تھے اور آپریشن کا مشاہدہ کیا۔ تاہم کھوکھر بھائیوں یا ان کے کنبہ کے ممبران نے آپریشن روکنے کے لئے مزاحمت نہیں کی۔کسی نے بھی اس حقیقت کے باوجود مزاحمت نہیں کی کہ عدالت کے حکم امتناعی کی موجودگی میں یہ بالکل غیر قانونی ہے۔

انتظامیہ کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ اس اراضی کی مجموعی مالیت تقریبا ایک ارب پچیس کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کھوکھر برادران پر جعلسازی کے ذریعہ زمین پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے کھوکھر برادران کو بھی نوٹسز جاری کردیئے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایس پی (آپریشنز) اور اضافی ضلعی کلکٹر ریونیو (اے ڈی سی آر) کے زیر نگرانی آپریشن کے دوران مختلف ڈھانچے اور دکانیں مسمار کردی گئیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں