بھارت خود دہشتگردوں کی پرورش کر رہا ہے: رحمان ملک

بھارت خود دہشتگردوں کی پرورش کر رہا ہے

اسلام آباد (پاک صحافت) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے  چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت میں دہشتگردوں کی پرورش ہو رہی ہے بھارت خود دہشتگردوں کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں دہشتگردوں  کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔کشمیریوں کے حقوق کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں ،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش کے  عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: بھارت اور اسرائیل پاکستان میں فنڈنگ کر رہے ہیں: صحافی رانا عظیم

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے ۔کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ایک اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہیں گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔

کمیٹی کو ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم ، اوگرا ، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

 

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں