آخر کار وزیرِ اعظم نے آج کوئٹہ جانے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (پاک صحافت)وزیر اعظم عمران خان کچھ وزراء کے ہمراہ آج کوئٹہ روانہ ہورہے ہیں جہاں وہ سانحۂ مچھ میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے ورثاء کے کے لواحقین سے اظہار تعزیت کریں گے۔ مشیروں کے مشورے پر انہوں نے کوئٹہ نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان کے ہمراہ وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشیداحمد اور دیگر وزراء بھی کوئٹہ جائیں گے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان کوئٹہ میں سانحۂ مچھ میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے لواحقین سے تعزیت کریں گے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دورۂ کوئٹہ کے موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان ہزارہ برادری کے معززین اور علمائے کرام سے بھی ملاقات کریں گے۔

مزید پڑھیں: لاشوں کو دفن کریں ،بلیک میل نہ کریں:عمران خان

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان کو سانحۂ مچھ اور اس سے متعلق تحقیقات میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں اور کابینہ کے اراکین سے حاصل کردہ پس پردہ معلومات سے انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم گزشتہ اتوار کو بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشت گردوں کی جانب سے 11 کوئلے کے کان کنوں کے ذبح کیے جانے کے فوراً بعد کوئٹہ پہنچنا چاہتے تھے لیکن انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اس صورتحال بہتر ہونے تک انتظار کریں۔

وزیر اعظم کے ‘بلیک میلنگ’ کے تبصرے کے پیچھے پس منظر میں کچھ وجوہات ہیں کیونکہ حکومت کو یقین ہے کہ ہزارہ کے معصوم عوام نے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ لاشوں کی اسی وقت تدفین کریں گے جب وزیر اعظم ان سے تعزیت کے لیے کوئٹہ آئیں گے بلکہ یہ مطالبہ بنیادی طور پر مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے قائدین کا تھا اور حزب اختلاف نے حساس معاملے پر سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے آگ کو بھڑکایا۔

معاونین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا مؤقف تھا کہ ایک بار اگر انہوں نے تدفین سے قبل کوئٹہ جانے کا مطالبہ قبول کرلیا تو یہ ایک مثال بن جائے گی اور جب کسی کو کوئی شکایت ہو گی تو وہ مستقبل میں انہیں بلیک میل کرے گا۔

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں