ایران نے امریکہ اور برطانیہ کی تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین لینے سے کیوں انکار کیا؟ جانیئے اس رپورٹ میں۔۔۔

ایران نے امریکہ اور برطانیہ کی تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین لینے سے کیوں انکار کیا؟ جانیئے اس رپورٹ میں۔۔۔

تہران (پاک صحافت)  ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا اور برطانیہ سے کووڈ 19 ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کردی، سرکاری ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے ایران کے اعلی رہنما نے کہا کہ انہیں دو مغربی طاقتوں سے ویکسین لینے پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔

لیکن انہوں نے ایسا کیوں کہا اس بات کو جاننے کے لیئے ان ممالک کی گذشتہ تاریخ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں جس سے اس بات کا واضح طور پر اندازہ لگ جائے گا کہ ان ممالک کی تیارہ کردہ ویکسین نے لوگوں کی جانیں بچائی نہیں بلکہ بہت سارے لوگوں ان ویکسین کا استعمال کرکے ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایران کی طرف سے امریکی اور برطانوی ویکسین کی در آمد پر پابندی کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکی اور برطانوی دواساز کمپنیاں عوام کی اطلاع کے بغیر ان پر غیر قانونی تجربات کرتی رہتی ہیں۔

1 : امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے 1996 میں نائجیریا کے لوگوں پرگردن توڑ بخار کی دوا کا تجربہ ان کی اطلاع کے بغیر انجام دیا ، حتی اس سلسلے میں فائزر نے نائجیریا کی حکومت سے بھی اجازت نہیں لی۔اور اس آزمائش کے دوران 11 بچے ہلاک ہوگئے جبکہ 200 بچے بینائی اور سماعت کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔

2 : ایم کے اولٹرا پروگرام جو امریکی سی آئی اے کی جانب سے ذہن کنٹرول کرنے کے منصوبہ سے معروف ہے یہ ایک مخفی منصوبہ تھا۔ اس منصوبہ میں امریکہ اور کینیڈا کے شہریوں پر انکی اطلاع کے بغیر تجربات کئے گئے جو غیر قانونی تھے۔

3 : سن 1966 میں ہنری بیچر نے اپنے ایک مقالہ میں شواہد کے ساتھ انکشاف کیا کہ  امریکی ریسرچ اور تحقیقات کے ادارے غیر قانونی طور پر سرطان کے  زندہ سیل بیماروں کے بدن میں منتقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس قسم کے غیر قانونی تجربات امریکہ ميں عام طور پر رائج ہیں۔

4 : بیسویں صدی میں امریکی ماہرین نے ایک دوا ڈپوپروورا کا زیمبابوے کی خواتین پر تجربہ کیا اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ دوا آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور سن 1981 میں زیمبابوے کی حکومت نے اس دوا کو ممنوع قراردیدیا۔

5 : سن 1994 میں امریکی دوا ساز کمپنیوں نے ایڈز کی دوا ” اے زیڈ ٹی ” کا افریقہ کی 17000 خواتین پر تجربہ کیا اور اجازت کے بغیر اصل دوا کے بجائے پلاسیبو کھلائی گئی جس کے نتیجے میں 1000 بچے ایڈز میں مبتلا پیدا ہوئے۔

6 : برطانیہ کے قومی آرکائیو کی خفیہ اسناد کے شائ‏ع ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ سن 30 اور 40 کی دہائیوں ميں برطانوی فوج نے اپنے ہی فوجیوں پر مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا تاکہ یہ جان لیں کہ اس کا تخریبی اثر بھارتیوں پر زیادہ ہوتا ہے یا برطانوی شہریوں پر سنہ 1950 میں ڈونلڈ میڈسن 200 ملی گرام سارین کے ذریعہ ہلاک ہوگیا تھا اسے کہا گيا تھا کہ  یہ دوا سردی سے بچانے کی دوا ہے۔

7 : سن 1946 سے 1948 تک امریکی ماہرین  نے گوئٹمالا کی حکومت کے تعاون سے گوئٹمالا کے 1500 بیماروں پر تجربات کئے اور انھیں سفلیس اور سوزاک کی بیماریوں میں مبتلا کردیا، اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق پر مجبور کرتے تھے تاکہ بیماری منتقل ہو اور امریکی دوا سازوں کے اس مجرمانہ قعل پر کئي سال بعد  سابق صدر اوبامہ اور ہیلری کلنٹن نے معذرت خواہی کی تھی۔

مذکورہ بالا تجربات اور دیگر بہت سے امور اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکی اور برطانوی دواساز کمپنیاں قابل اعتماد نہیں ہیں اور ان کی ویکسین پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، لہذا عقل اور منطق کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے ملک میں تیار کردہ دواؤں اور ویکسین سے استفادہ کرنا چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں