امریکا میں 30 سال سے جیل کی سزا کاٹنے والے اسرائیلی جاسوس کی اسرائیل واپسی، نیتن یاہو نے پرجوش استقبال کیا

امریکا میں 30 سال سے جیل کی سزا کاٹنے والے اسرائیلی جاسوس کی اسرائیل واپسی، نیتن یاہو نے پرجوش استقبال کیا

اسرائیل کے لیئے جاسوسی کے جرم میں امریکا میں 30 سال جیل کی سزا کاٹنے کے بعد اسرائیلی جاسوس جب واپس اسرائیل پہونچا تو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس کا پرجوش استقبال کیا۔

اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ جو امریکی بحریہ میں کام کرتا تھا مگر در اصل اسرائیل کے لئے جاسوسی میں مصروف تھا، امریکا میں تیس سال جیل کی سزا کاٹنے کے بعد اسرائیل لوٹا تو بنجمن نیتن یاہو نے اس کا  پرجوش استقبال کیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جوناتھن پولارڈ پر امریکا سے باہر جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم اپنے آخری دن گزار رہی ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو یہ تحفہ دیا کہ پولارڈ پر پانچ سال سے جاری سفری پابندی میں توسیع نہیں کی۔

نیتن یاہو نے تل ابیب پہنچنے پر پولارڈ اور اس کی اہلیہ کا استقبال کیا اور اس کا ویڈیو اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے جاری کیا۔

صیہونی پولارڈ اور اس کی اہلیہ نے تل ابیب پہنچنے پر زمین کو بوسہ دیا، نتن یاہو نے اس موقع پر پولارڈ کو اسرائیلی شہریت کا کارڈ دیا اور کہا کہ اب سے تم اسرائیل کے شہری ہو۔

پولارڈ نے 1980 کی دہائی میں نیویارک میں اسرائیلی جنرل سے رابطہ کیا تھا اور دسیوں ہزار ڈالر کی رقم وصول کرکے اسرائیل کو خفیہ اطلاعات دینی شروع کر دی تھیں، پولارڈ نے ہزاروں دستاویزات اسرائیلی جنرل کو دیئے اور اس طرح امریکا کے ساتھ غداری بھی کی۔

پولارڈ کی جاسوسی کے نتیجے میں اسرائیل کو جو اطلاعات ملیں ان کی بنیاد پر اس نے تیونس میں فلسطینی تنظیم پی ایل او کے ٹھکانے پر حملہ کیا تھا جس میں 60 افراد جاں بحق ہوئے تھے، اسی طرح؛ اسرائیل نے ان اطلاعات کی مدد سے متعدد ٹارگٹ کلنگ بھی کی تھی۔

واضح رہے کہ 1987 میں پولارڈ نے اسرائیل کے لیئے جاسوسی کرنے کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد  اس جاسوس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم 2015 میں پولارڈ کو مشروط آزادی ملی تھی اور اب وہ مکمل طور پر آازد ہوکر اسرائیل واپس آچکے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے متعدد بار امریکہ سے جوناتھن پولارڈ کے لیے رحم کی درخواست کی تھی جس کو مسترد کردیا گیا تھا، لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں انہیں رہا کردیا گیا ہے جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کے دور اقتدار کا اسرائیل کو دیا گیا آخری تحفہ سمجھا جارہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں