یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر اردن نے شدید احتجاج کردیا

یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر اردن نے شدید احتجاج کردیا

اردن (پاک صحافت)  اسرائیلی حکام کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور میں بے جا مداخلت اور یہودی آبادکاروں کی سرکاری سرپرستی میں حرم قدسی کی بے حرمتی پر اردن نے صہیونی ریاست کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

اردنی وزارت خارجہ کی جانب سے سوموار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں‌کہا گیا ہے کہ عمان نے مختلف سفارتی ذرائع سے احتجاجی مراسلے جاری کیے ہیں جن میں عالمی برادری کی توجہ مسجد اقصیٰ کی اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی بے حرمتی کی طرف مبذول کرائی گئی ہے۔

احتجاجی یاداشت میں اسرائیل سے مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری مذہبی اشتعال انگیزی بند کرنے اور قبلہ اول کے حوالے سے القدس اوقاف اور اردنی وصایہ کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ ‌کے مرمتی کام میں مداخلت القدس کے انتظامی معاملات میں کھلی دخل اندازی اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے، اسرائیلی ریاست القدس اور حرم قدسی کے حوالے سے اپنے قانونی دائرہ کار اور دائرہ اختیار سے تجاوز کررہا ہے، مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ میں مرمتی کام سے روک کر اسرائیل نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حرم قدسی کا تقدس پامال کررہا ہے۔

اردنی حکومت کے ترجمان ضیف اللہ الفائز نے کہا کہ اسرائیل کی اوقاف انتظامیہ کے خلاف سرگرمیاں ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اوقاف ہی واحد آئینی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کی دیکھ بحال اور اس کی سرپرستی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس میں ایک قابض قوت کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور قبلہ اول کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں سے باز آئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کا 144 دونم رقبہ خالص مسلمانوں کی ملکیت ہے جس پر اسرائیل کو کسی قسم کے تصرفات کا کوئی حق نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں