اسرائیلی فوج کا غرب اردن میں فلسطینیوں پر وحشیانہ حملہ، متعدد افراد زخمی ہوگئے

اسرائیلی فوج کا غرب اردن میں فلسطینیوں پر وحشیانہ حملہ، متعدد افراد زخمی ہوگئے

غرب اردن:(پاک صحافت) قابض صہیونی فوج نے جمعہ کے روز فلسطینیوں کی ایک ہفتہ وار ریلی پر طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 18 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں کفر قدوم کے مقام پر فلسطینیوں ‌نے 17 سال سے بند سڑک کھولنے کے لیے ہونے والے احتجاج کے دوران قابض فوج نے ریلی کے شرکا کو منتشر کرنے پر فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجےمیں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔

مزید پڑھیں: فلسطین کی دفاع اراضی کمیٹی کی رپورٹ جاری، غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کی سازش کا پردہ فاش کردیا

مقامی عوامی مزاحمتی رابطہ کمیٹی کے رکن مراد اشتیوی نے بتایا کہ قابض فوج نے کفر قدوم قصبے پر دھاوا بولا اور فلسطینیوں کی نکالی گئی ریلی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 7 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ 17 سال سے بند سڑک کھولنے کے لیے کفر قدوم  کے مقام پر فلسطینی شہری گذشتہ 9 سال سے ہفتہ وار مظاہرے کرتے ہیں، قابض ‌فوج نے کفر قدوم کو ملانے والی مرکزی شاہراہ سولہ سال سے بند کررکھی ہے۔

دوسری جانب قابض صہیونی فوج کی زیر سرپرستی یہودی آباد کاروں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں کے علاقے حارس میں الطائرات کے مقام پر ایک فلسطینی شہری کا زیتون کا باغ اجاڑ ڈالا جس کے نتیجے میں باغ میں موجود 300 درخت تلف کر دیے گئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہودی آباد کاروں نے  غرب اردن کے شمالی علاقے الحارس کے حسن عودہ سلطان، اور دو حقیقی بھائیوں عمر اور عبدالرحیم سمیرہ  کے زیتون کے باغ میں گھس کر درجنوں پھل دار پودے کاٹ ڈالے، زیتون کے باغ پریلغار کرنے والے آباد کاروں کا تعلق ایک مقامی یہودی کالونی  سے بتایا جاتا ہے۔

متاثرہ شہریوں نے میڈیا کو بتایا کہ الطائرات کے مقام پر واقع اس کے مکان میں زیتون کے دسیوں پھل دار پودے تھے۔

باغ کو اجاڑنے کی اس مذموم کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور کسی فلسطینی کو باغ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں