امریکا کے سابق قومی سلامتی مشیر نے امریکہ میں مارشل لاء لگا کر دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کردیا

امریکا کے سابق قومی سلامتی مشیر نے امریکہ میں مارشل لاء لگا کر دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کردیا

امریکہ کے سابق قومی سلامتی مشیر مائیکل فلن نے صدر ٹرمپ سے آئین معطل کر کے مارشل لاء لگانے اور فوج سے دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کر دیا۔

مائیکل فلن نے دائیں بازو کے گروپ کی پریس ریلیز کو ری ٹوئٹ کیا ہے جس میں گروپ نے امریکی صدر سے ملک کا آئین عارضی طور پر معطل کر کے فوج بلانے اور فوج کی نگرانی میں صدارتی انتخاب کے دوبارہ انعقاد کا مطالبہ اور بصورت دیگر ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خطرہ بیان کیا ہے، مائیکل فلن نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آزادی خدا کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتی۔

خیال رہے کہ امریکا کے 2016 کے صدارتی انتخاب میں روس سے رابطوں میں ملوث سابق قومی سلامتی مشیر مائیکل فلن نے گذشتہ ہفتے امریکی صدر سے خصوصی معافی حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدارتی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ پر بھی شک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہیں لگتا امریکی سپریم کورٹ الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کا کیس سنے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس سیکڑوں ثبوت اور حلف نامے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں مقدمہ کرانا بڑا مشکل کام ہے لیکن انتخابی نتائج کے خلاف وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر ناقابل شکست سبقت حاصل ہے، جوبائیڈن کے الیکٹورل ووٹس کی تعداد 306 جب کہ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹس کی تعداد 232 ہے، تمام الیکٹرز اپنی اپنی ریاستوں میں 14 دسمبر کو جمع ہو کر صدر اور نائب صدر کا انتخاب کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں