مالی میں بم دھماکہ، دو فرانسیسی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا

مالی میں بم دھماکہ، دو فرانسیسی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا

مالی (پاک صحافت) افریقی ملک مالی میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں دو فرانسیسی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق افریقی ملک مالی میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں دو فرانسیسی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

فرانسیسی ایوان صدر نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ فرانسیسی فوج کی بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، یہ فوجی مالی کے شمال مشرقی علاقے میناکا میں ایک انٹیلی جنس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا۔

واضح رہے کہ 5 روز پہلے بھی مالی میں بارودی سرنگ کے حملے میں تین فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، مالی میں 5100 فرانسیسی فوجی تعینات ہیں جو وہاں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن کررہے ہیں۔

قابل ذکر ہیکہ اس سے قبل مالی کی سرحد کے قریب دہشت گروہ داعش کے مبینہ دو حملوں میں 70 شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کومبانگو گاؤں میں ہوئے حملے میں کم ازکم 49 شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔

وزارت داخلہ کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دوسرا حملہ زارومداریے میں ہوا جہاں 30 شہری مارے گئے، نائیجر کی حکومت نے دونوں واقعات کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

رپورٹس کے مطابق فرانس سے آزادی حاصل کرنے والے مغربی افریقہ کے ملک نائیجر میں اس سے قبل القاعدہ اور داعش سے منسلک دہشت گرد حملے کرتے رہے ہیں، نائیجر کے جنوب مشرقی سرحد، مالی اور برکینا فاسو میں مغربی سرحد پر گزشتہ چند برسوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں فرانس سے تعلق رکھنے والے 6 سیاح، ان کے مقامی گائیڈ اور ڈرائیور کو جنوب مغربی علاقے میں مسلح موٹرسائیکل سواروں نے قتل کردیا تھا۔

جنگلی حیات سے مالامال افریقی ملک میں سیاحوں پر اس طرح کا حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جہاں زرافہ اور منفرد جنگلی حیات پائی جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ جون 2018 میمں نائیجر کی جنوبی مشرق میں واقع مسجد کے قریب 3 خودکش حملوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

نائیجر کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حملہ آوروں میں 2 خواتین اور ایک مرد شامل تھا جبکہ مقامی عہدیدار میں کہا گیا تھا کہ تینوں حملہ آور خواتین تھیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں