کابل میں ڈاکٹروں کی گاڑی میں بم دھماکہ، ڈاکٹروں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے

کابل میں ڈاکٹروں کی گاڑی میں بم دھماکہ، ڈاکٹروں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزاروں طالبان قیدیوں سے بھرے جیل میں کام کرنے والے 4 ڈاکٹروں کی گاڑی پر ہونے والے بم حملے میں ڈاکٹروں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ بم ڈاکٹروں کی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

کابل پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز نے بتایا کہ دھماکا شہر کے جنوبی ضلع میں ہوا جب ڈاکٹر پل چرخی جیل جا رہے تھے جہاں وہ کام کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بم کار میں نصب کیا گیا اور مقناطیسی بم پھٹنے سے چار ڈاکٹر اور ایک راہگیر ہلاک ہوگیا جبکہ مزید دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

کابل کے مشرقی حصے کے مضافات میں واقع پل چرخی جیل میں سیکڑوں طالبان جنگجو اور دیگر مجرمان کو قید میں رکھا گیا ہے، یہ شہر حالیہ مہینوں میں طالبان اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں مصروف ہونے کے باوجود تشدد کی لہر کا شکار ہے۔

کابل اور دیگر صوبوں میں صحافیوں، سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت اہم شخصیات کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

داعش گروپ نے کابل میں حالیہ حملوں میں سے چند کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آج ڈاکٹروں پر حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب دو روز قبل ہی کابل میں ایک قانون ساز کو کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا، دھماکے میں قانون ساز خان محمد وردک زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے سے ایک روز قبل اسی طرح کے ایک حملے میں صوبہ کابل کے نائب گورنر محبوب اللہ محبی ہلاک ہوگئے تھے، اس کے علاوہ پیر کے روز ایک افغان صحافی کو مشرقی شہر غزنی میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جو بظاہر ایک اور ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا۔

رحمت اللہ نکزاد 2007 سے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹ پریس کے لیے کام کر رہے تھے اور اس سے قبل وہ الجزیرہ براڈکاسٹ نیٹ ورک کے ساتھ بھی کام کرچکے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں