افغانستان میں شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ نے بالآخر آنکھیں کھول دیں!

افغانستان

پاک صحافت اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے افغانستان میں ہزارہ برادری اور شیعہ مسلمانوں کی منصوبہ بند نسل کشی کی مذمت کی ہے۔

ایک عرصے سے افغانستان میں شیعہ اور ہزارہ برادری دہشت گردوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور آئے روز انہیں نشانہ بنا کر شہید اور زخمی کیا جا رہا ہے۔ سلیشیا طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی شیعہ اور ہزارہ برادریوں کی نسل کشی جاری ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے خلاف تازہ ترین حملہ بدھ کو مزار شریف میں ہوا۔ مزار شریف میں بیک وقت تین بم دھماکوں میں 10 افراد شہید اور 15 زخمی ہوگئے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ

دریں اثنا، افغان خبر رساں ایجنسی آوا کے مطابق، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے افغانستان کے اپنے 11 روزہ جائزہ دورے کے بعد کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے بینیٹ نے کہا کہ یہ حملے ایک منصوبہ بند طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔ تکفیریوں نے دہشت گردوں کے انسانیت کے خلاف ان گھناؤنے جرائم پر کڑی تنقید کی۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے شیعہ مسلمانوں، اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر دہشت گردانہ حملوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو "سنگین” قرار دیتے ہوئے طالبان سے انسانی حقوق کے وعدوں کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کے ایلچی نے افغان خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، سلامتی اور روزگار کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں