مراکش کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے پر فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پیدا ہوگئی

مراکش کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے پر فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پیدا ہوگئی

افریقی عرب ملک مراکش کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مکمل طور پر سفارتی تعلقات معمول پرلانے کے اعلان پر فلسطینی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور اسلامی جہاد نے مراکش کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور صہیونی ریاست کے ساتھ مکمل طور پر سفارتی تعلقات قائم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔

حماس کی طر ف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا مراکش جیسے اسلامی اور عرب ملک کے لیے مناسب نہیں۔ حماس مراکش کے اس اقدام کی شدید مذمت  کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو پورا یقین ہے کہ مراکشی عوام حکومت کے اس فیصلے سے متفق نہیں کیونکہ مراکشی قوم ہمیشہ کی طرح آج بھی فلسطین، القدس اور الاقصیٰ کے ساتھ کھڑی  ہے۔

بیان میں مراکشی حکومت کے اس اعلان کو مراکش کے تاریخی اور اصولی موقف سے صریح انحراف قرار دیتے ہوئے رباط سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا اسرائیل کو تسلیم کرنا مراکش کی ایک بڑی سیاسی غلطی ہے، اس اقدام سے فلسطینی قوم یا امن کے لیے خدمت نہیں ہوگی بلکہ اس سے فلسطینی قوم کے حقوق غصب کرنے کی صہیونی سازشوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔
ادھر اسلامی جہاد کے ترجمان دائود شہاب نے ایک بیان میں مراکش کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان کو القدس اور فلسطینی قوم کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مراکش کی طر ف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان عرب حکومتوں کی ایک اور شرمناک شکست ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی کوششوں سے مراکش اور اسرائیل نے امن معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم نے مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری تسلیم کی ہے جس کے جواب میں  مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں