اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی بچے کا وحشیانہ قتل، امریکی رکن کانگریس نے جنگی جرم قرار دے دیا

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی بچے کا وحشیانہ قتل، امریکی رکن کانگریس نے جنگی جرم قرار دے دیا

امریکی کانگریس کے رکن بٹی میککولم نے دو دن قبل اسرائیلی فوج نے ہاتھوں ایک کم سن بچے کی شہادت کو ‘جنگی جرم’ قرار دیا۔

انہوں نے نو منتخب صدر جوبائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد فلسطینی بچے کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کرائیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کواسرائیلی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 سالہ علی ایمن ابو علیا نامی ایک بچے کو شہید کردیا تھا امریکی رکن کانگریس نے  المغیر کےمقام پر علی ابو علیا کی شہادت کی مذمت کی ہے۔

ایک پریس بیان میں میک کولم نے  کہ  ایک بچے کا قتل” منظم ریاستی سفاکانہ قتل ہے”۔ انہوں نے  نو منتخب امریکی صدر  جو بائیڈن کی آئندہ انتظامیہ سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجیوں کےہاتھوں کم سن فلسطینی بچے کے پیٹ میں گولی  قتل کرنا اسرائیلی ریاست کے زیر اہتمام ایک گھناؤنا قتل ہے۔

انہوں نے امریکی حکومت سے اس واقعے کی مذمت کامطالبہ کیا اور اسرائیل کے خلاف اس واقعے کی تحقیقات شروع کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں بائیڈن انتظامیہ فلسطینی لڑکے کی شہادت کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی بچوں کے قتل عام پر اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

میک کولم نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ  "یونیسف” کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا جس میں رواں سال کے جنوری سے ستمبر تک 232 فلسطینی بچوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں