تقریب حلف برداری یا میدان جنگ!!!؟؟؟

تقریب حلف برداری یا میدان جنگ!!!؟؟؟

(پاک صحافت)  نئے امریکی صدر کی تقریب حلف برداری میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تقریب کے کسی ناخوشگوار واقعے کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں امریکی حکام اس حد تک مستعد ہیں کہ واشنگٹن کی گلیوں میں 20 ہزار سے زائد نیشنل گارڈز تعینات کردیے گئے ہیں جو کسی بھی بدنظمی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے گلیوں میں گشت کرتے نظر آئیں گے۔

ان سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی 6 جنوری کو رونما ہونے والے حادثے کے تناظر میں کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا اور خفیہ ایجنسیوں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ کے حامی ایک مرتبہ پھر ایسا ہی کوئی حملہ نہ کردیں۔

صرف سیکیورٹی حکام ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے اسٹاف کی بھی دوڑیں لگی ہوئی ہیں جن کے پاس نئے صدر کے لیے رہائش گاہ کو آراستہ کرنے کے لیے محض 5 گھنٹے کا وقت ہو گا، 20 جنوری کو منتخب صدر جو بائیڈن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ لیں گے اور امریکی تاریخ کے 46ویں صدر بن جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی صبح وائٹ ہاؤس چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور بائیڈن حلف برداری کی تقریب کے بعد دن کے وسط میں وائٹ ہاؤس میں قدم رکھیں گے۔

ابھی تک موجودہ امریکی صدر نے اپنا الوداعی بیان نہیں دیا لیکن خاتون اول نے اپنا بیان دے دیا ہے جنہوں نے 7 منٹ پر محیط اپنے الوداعی بیان میں کہا کہ میں تمام امریکیوں سے کہتی ہوں کہ ان چیزوں پر توجہ دیں جو ہمیں متحد کرتی ہیں اور ان تمام چیزوں سے بالاتر ہو جائیں جو ہمیں تقسیم کرتی ہیں، نفرت کے اوپر محبت، تشدد پر امن اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں۔

منتخب صدر جو بائیڈن کو منقسم قوم کو متحد کرنے کا چیلنج درپیش ہے اور وہ عندیہ دے چکے ہیں کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی ان کی اولین ترجیح ہو گی اور اس کے بعد وہ قوم کے ان زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کریں گے جو 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملے سے لگے تھے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہماری انتظامیہ سائنس اور سائنسدانوں کی رہنمائی کرے گی جہاں سی ڈی سی اور این آئی ایچ (صحت کی ایجنسیاں) سیاسی اثرورسوخ سے پاک ہوں گی، جہاں ایک آزاد سرجن جنرل عوام سے براہ راست مخاطب ہو سکے گا اور ایف ڈی اے فیصلے سائنس اور صرف اور صرف سائنس کی بنیاد پر لیے جائیں گے۔

تاہم ٹرمپ کے حامیوں کی ممکنہ چڑھائی سے بڑھ کر بائیڈن انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ کورونا وائرس کی وبا ہے جس کے نتیجے میں امریکا میں اب تک 4 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے بائیڈن نے اپنی اکثر افتتاحی تقاریب کو منسوخ کرتے ہوئے امریکی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ افتتاحی تقریب اپنے گھروں پر ٹیلی ویژن لیپ ٹاپ اور موبائل پر بیٹھ کر دیکھیں۔

امریکی تاریخ کے 45ویں صدر ٹرمپ بدھ کی صبح وائٹ ہاؤس چھوڑے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ان کا نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ سیدھا اپنی رہائش گاہ فلوریڈا کا رخ کریں گے۔

ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے لیکن کچھ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ حیران کر دینے والی اپنی عادت پر قائم رہتے ہوئے غیرمتوقع طور پر تقریب میں یکدم آدھمکے تو انہیں ہرگز حیرت نہ ہو گی۔

البتہ اگر ٹرمپ اپنی بات پر قائم رہتے ہیں تو وہ 150 سال میں پہلے امریکی صدر ہوں گے جو آنے والے جانشین کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ انہیں مکمل پروٹوکول بلکہ اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر شان و شوکت کے ساتھ رخصت کیا جائے۔

وہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے پینٹاگون میں فوجی پیریڈ کا انعقاد کیا جائے جس میں تمام سروسز چیفس شرکت کریں، جہاز اڑان بھر رہے ہوں اور ٹینک انہیں سلامی پیش کریں لیکن ان کی یہ خواہش مسترد کردی گئی جس کی ممکنہ طور پر وجہ 6 جنوری کو ہجوم کی جانب سے کیا گیا حملہ ہے، البتہ انہیں واشنگٹن کے قریب اینڈریو ایئر بیس پر فوجی ریڈ کارپٹ کے ذریعے الوداع کہا جائے گا۔

وہ صدارتی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعے گھر کا رخ کریں گے اور فلوریڈا کا رخ کرتے ہوئے فوجی طیارہ بھی ان کے ہمراہ ہو گا جبکہ نئے صدر کی تقریب حلف برداری کے کچھ گھنٹوں بعد ایئر فورس ون واپس لوٹ آئے گا۔

رپورٹس کے مطابق جانے سے قبل ٹرمپ ممکنہ طور پر 100 لوگوں کے لیے معافی کا اعلان کریں گے جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عین ممکن ہے کہ وہ جانے سے قبل 6 جنوری کے عمل کے لیے معافی کے طلبگار ہوں حالانکہ ان کے قانونی ماہرین نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق جو لوگ 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر چڑھائی میں شریک تھے انہیں بھی رہائی دیے جانے کا امکان ہے، امریکی ٹاک شوز میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو معافی مانگنے پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ کچھ ڈیموکریٹس پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ ٹرمپ کے امریکی صدر کے منصب سے ہٹتے ہی وہ 6 جنوری کے عمل پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ کریں گے۔

اس معاملے پر امریکی صدر کا مواخذہ بھی کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے وہ امریکی تاریخ کے پہلے صدر بن گئے ہیں جن کا دو بار مواخذہ کیا گیا ہے، پہلا مواخذہ 2019 میں کیا گیا تھا جبکہ دوسرا جنوری 2021 میں ہوا۔

ٹرمپ پر مواخذے میں فرد جرم عائد کیے جانے کے لیے ڈیموکریٹس کو دو تہائی اکثریت درکار ہو گی اور اس کے لیے ضروری ہو گا کہ کم از کم 17 ری پیبلکن بھی ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیں جو ممکن نظر نہیں آتا۔

دو ریپبلکن سینیٹرز ٹام کوٹن اور کنڈسے گراہم خبردار کر چکے ہیں کہ سابق امریکی صدر پر فرد جرم عائد کرنا غیرآئینی ہے لیکن ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ مستقبل میں ٹرمپ کو کسی بھی صدارتی انتخاب میں شرکت نہیں کرنے دیں گے۔

ٹوئٹر اور فیس بک دونوں کی جانب سے پابندی کا شکار ٹرمپ اب اپنا میڈیا آؤٹ لیٹ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے وہ ایک مرتبہ پھر صدارتی عظمیٰ کے الیکشن لڑنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

بائیڈن کے ہاتھوں 3 نومبر کے صدارتی انتخابات میں شکست کے باوجود ٹرمپ کا مستقبل روشن نظر آتا ہے کیونکہ انہوں نے صدارتی انتخابات میں کسی بھی امریکی صدر کے مقابلے میں سب سے زیادہ 7 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ووٹس حاصل کیے۔

ان کی قیادت میں ریپبلکنز نے سینیٹ میں کئی سیٹیں حاصل کیں اور ایوان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں