بھارت جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

بھارت جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

جنوبی ایشیا کا خطہ دنیا میں زرخیزی، مردم خیزی اور فطری طور پر انفرادیت کا حامل ہے، دریا ہوں، ساحل سمندر ہو، کھیت و کھلیان اور معدنی وسائل ان سب نعمتوں سے مالا مال ہے۔

انسانوں کے درمیان تنازعوں نے ڈیڑھ ارب سے زائد افراد کی زندگی کو مشکل میں ڈالا ہو ہے، جنوبی ایشیا میں باھمی سیاسی تنازعات اور اقتصادی زبوں حالی کا مقابلہ کرنے کے لیے 1985 ء میں سارک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تعاون کی تنظیم ہے، 8 ،دسمبر 1985ء میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ پر مشتمل اس تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی، آہستہ آہستہ اس کے مبصر کی حیثیت میں شامل ہونے والے ممالک میں آسٹریلیا، یورپی اتحاد، جاپان، ایران، میانمار، جنوبی کوریا اور امریکہ بھی شامل ہوئے، چین کی بھارت نے شدید مخالفت کی تاھم بعد میں بطور مبصر چین کو بھی شامل کر لیا گیا، جس میں پاکستان کی بھرپور کوشش شامل تھی۔

سارک کے چودھویں اجلاس 2007ء میں افغانستان کو بھی اس کی باقاعدہ رکنیت دی گئی، تنظیم کا مقصد آزاد تجارت کا معاہدہ اور سیاسی تناؤ کو ختم کرنا تھا، لیکن سارک کے بڑے ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات نے اس تنظیم کی افادیت ختم کر دی، اگرچہ کہ پاکستان نے مطلوبہ مقاصد کے لیے بھرپور تعاون کیا مگر بھارت نے سخت ردعمل دکھا کر سارک جیسی بڑی تنظیم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا، بارھویں سربراہ اجلاس اسلام آباد میں آزاد تجارت کے معاہدے پر حتمی تجاویز دی گئیں اور دھیمے انداز میں معاہدہ ھو گیا مگر کشمیر کے تنازعہ اور بھارت کی بدلتی ہوئی پالیسیوں نے رکاوٹ کھڑی کر دی۔

اس وقت اس خطے کے جی ڈی پی کا کل تخمینہ 9.05 ٹریلین ڈالر لگایا گیا تھا، 2006ء کے اجلاس میں معصولات میں کمی کر کے 20فیصد کرنے کا بھی معایدہ ھوا تاہم 26,27 نومبر 2014ء کے سربراہ اجلاس کٹھمنڈو کے بعد تنظیم بالکل بے اثر کر دی گئی، بار بار بھارت اجلاس کو ملتوی کرنے کی وجہ بنا، بھارت میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد تو سارک کا نام بھی مٹ گیا، بھارت کے اندرونی حالات، انتہا پسندی اور نسل پرستی نے ایک نئے رحجان کو تقویت دی ہے اور پاکستان اور بھارت آمنے سامنے کھڑے ہیں، 2019ء میں تو جنگ کے بھڑکتے شعلے بھی نظر آنے لگے، بھارت اور امریکہ کے درمیان ہے درپے دفاعی معاہدوں نے خطے میں عدم توازن کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔

لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی نے بھارت کو شدید دباؤ کا شکار کر دیا ہے، کئی بھارتی ریاستیں اروناچل پردیش، ھماچل پردیش اور لداخ کا بڑا علاقہ چین کی براہ راست پہنچ میں ھے، جون 2019 ء میں وادی گلوان میں ہونے والی چین بھارت کشیدگی میں بیس بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، چین نے کئی کلومیٹر کے علاقے کو اپنی تحویل میں لے لیا، دوسری طرف ایران اور بھارت کے ساتھ چہاہ بہار بندرگاہ کا معاہدہ ختم ھوا یہ بندر گاہ دراصل گوادر کی اھمیت ختم کرنے کے لیے بھارت نے تعمیر کرنی تھی، اس پر نیا معاہدہ چین اور ایران کا ھوچکا ھے۔

بھوٹان اور بھارت کے درمیان بھی کشیدگی پیدا ھوئی اور خطے میں چین نے اپنا اثر و رسوخ بڑھا دیا، جبکہ سی پیک کے نئے معاہدوں میں بنگلہ دیش کو بھی شامل کر لیا گیا تھا، جس سے بھارت کی کئی ریاستیں علیحدگی کے خواب دیکھنے لگی تھیں، اسی دو طرفہ فوائد میں بنگلہ دیش نے کئی چالیں چلی ہیں، پہلے چین کے ساتھ معاہدے کیے، طویل عرصے سے تعطل کا شکار بنگلہ دیش اور پاکستان کے رابطے بحال ھونا شروع ھو گئے ، بھارت یہ تنہائی دیکھ کر دوڑا دوڑا امریکہ گیا جس کو سی پیک کبھی ھضم نہیں ھو رہا، اس نے بھارت کے ساتھ جدید مواصلاتی ذرائع پر مشتمل معاہدہ کرلیا۔

ان حالات میں حال ہی میں بھارت ایک اور چال چلنے میں پیش رفت کر چکا ہے، بنگلہ دیش نے ان حالات کا مکمل فایدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت نے بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور بھوٹان پر مشتمل ایک نئی علاقائی تنظیم بنانے کی ٹھان لی ہے، حال ہی میں بھارت اور بنگلہ دیش کے سربراہان کے درمیان ورچوئل کانفرنس ھوئی ھے جس میں سات معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جن میں زراعت، ابی وسائل، ٹیکنالوجی، مواصلات اور توانائی کے معاہدے شامل ہیں، یہ وہ سیاست ھے جو پاکستان اور چین کو دکھائی جا رہی ہے۔

شیخ حسینہ واجد نے مارچ 2021ء میں بنگلہ دیش اور بھارت کے پچاس سالہ سفارتی تعلقات اور بنگلہ دیش کی آزادی کی تقریب میں نریندرا مودی کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا ھے، پاکستان کے لیے ارد گرد کے خطرات زیادہ ھوتے جا رہے مگر ان حالات میں پاکستان جیسا ملک زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے، اور رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، سی پیک پر بھرپور بھارتی اور امریکی مخالفت کے باوجود منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ روس ،ترکی ،ایران چین اور پاکستان کے تعاون میں شراکت دار بنتے جارہے ہیں، سارک جتنی اہم تنظیم تھی اتنے اہم کام نہیں کر سکی۔

بھارت کی وجہ سے تقریباً 1.47 ارب لوگوں کی زندگی مشکل تر ہوتی جارہی ہے ،گذشتہ دنوں او آئی سی نے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی جس پر بھارت ایک مرتبہ پھر تلملا اٹھا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ دنوں یو اے ای کس دورہ کیا جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت پاکستانی سر زمین پر سرجیکل سسٹریک جیسا نیا ڈرامہ کرنے کا رہا ہے جس کا پاکستان سخت جواب دے گا، جس دو نیوکلیئر ممالک کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے دنیا اس بھارتی مہم جوئی کو روکے ورنہ سارک جیسی بڑی تنظیم کو ناکام کرنے کے بعد بھارت اب خطے کو آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں