طلباء کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے کیلئے بل پیش

طلباء کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے کیلئے بل پیش

اسلام آباد (پاک صحافت) حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے کے متعدد واقعات کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے طلبا کو ہراساں ہونے سے بچانے کے لئے قانون سازی کی راہ ہموار کرنے کے لئے ایک بل کو کلیئر کردیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں طلباء کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ بل 2020 کی منظوری دی۔

سینیٹر جاوید عباسی نے اجلاس کو بتایا کہ بل تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول میں تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ، ایسے مقدمات درج کرنے کے لئے کوئی فوجداری قانون موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کارروائی میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔بل میں جلد انصاف کو یقینی بنانے کے لئے ایک طریقہ کار فراہم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اہم قرارداد منظور کرلی

سینیٹر عباسی کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات درج کرنے کے لئے کوئی فوجداری قانون موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کارروائی میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اسکول اور کالج کی سطح پر ڈپٹی کمشنر کے پاس شکایات درج کی جائیں گی اور کسی یونیورسٹی کی صورت میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو شکایات موصول ہوں گی اور وہ تین دن میں کمیٹی میں بھجوائے گی۔

بل کے تحت انکوائری کمیٹی 30 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی اس بل کی حمایت کی اور کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔سینیٹر مہر تاج نے انکوائری کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔بل کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ کسی مناسب طریقہ کار کی عدم موجودگی میں تعلیمی اداروں ، مدرسوں اور یہاں تک کہ ٹیوشن مراکز کے طلبا محفوظ نہیں تھے، اس بل میں عملے اور اساتذہ کے خلاف سخت مجرمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو ہراساں کیے جانے کے مرتکب ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں