سیاسی جماعتیں آپس میں لڑنا بند کریں:مولانا احمد شیرانی

سیاسی جماعتیں آپس میں لڑنا بند کریں

لاہور (پاک صحافت) جامعہ مدنیہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں آپسی اختلاف کو نظر انداز کریں یہ چیز ملکی استحکام کے خطرہ ہے۔پی ڈی ایم کا راستہ ان کی نظر میں ٹھیک ہوگا ان کی مرضی ہے جہاں مرضی مارچ کریں۔ ہمارا مؤقف ہے کہ جو دستور میں نام ہے اس کی رجسٹریشن ہونی چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ناراض رہنما مولانا محمد خان شیرانی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان خود سے فیصلے کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں کوآپس کی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ جامعہ مدنیہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا راستہ ان کی نظر میں ٹھیک ہوگا ان کی مرضی ہے جہاں مرضی مارچ کریں ان کا ہر ایک کا اپنا اپنا ہدف ہے ہمارا مؤقف ہے کہ جو دستور میں نام ہے اس کی رجسٹریشن ہونی چاہیئے۔

مزید پڑھیں: دھاندلی کی پیداوار حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے: احسن اقبال

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن دستور کو کیوں نہیں دیکھتا، ممبران کی رکنیت ہماری جماعت کے نام ہے الیکشن کمیشن اسکو کیوں نہیں دیکھتا؟، ہم کہیں نہیں جائیں گے نہ کسی کی معاونت میں نہ مخاصمت میں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں جمع لیٹر پیڈ پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان لکھا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی امین الحق نے کہاکہ موجودہ سیاسی کشمکش کی صورتحال میں ایم کیو ایم تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک حکومت کی جانب سے معاہدے پرعملدرآمد جاری ہے یہ شراکت نہیں ٹوٹے گی۔ امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امین الحق کا کہنا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات کے بعد ان کی جماعت کا وفاقی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ تاحال درست ثابت ہوا ہے۔

امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے تحریک انصاف کے ساتھ حکومت سازی کے معاہدے میں وزارتوں یا گورنر شپ کا حصول نہیں چاہا بلکہ کراچی و سندھ کے شہری علاقوں کی ترقی کی بات کی ہے امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے کراچی کے اپنے جلسے میں سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کی بات نہ کرکے وہاں کے عوام کو مایوس کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں