نیوزی لینڈ کی حکومت نے کرائسٹ چرچ مساجد حملے کی تفتیشی رپورٹ عام کردی

نیوزی لینڈ کی حکومت نے کرائسٹ چرچ مساجد حملے کی تفتیشی رپورٹ عام کردی

نیوزی لینڈ کی حکومت نے مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں ہونے والے دہشت گردی کے بدترین واقعے کی اعلیٰ تفتیشی رپورٹ عام کردی۔

تقریبا 800 صفحات پر مشتمل انگریزی رپورٹ کو 10 ابواب میں شائع کیا گیا اور جلد ہی اردو سمیت دنیا کی دیگر 12 زبانوں میں بھی شائع کرکے عام کردیا جائے گا۔

مذکورہ رپورٹ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے اس بدترین واقعے کی تفتیش کے لیے بنائی گئی خصوصی تفتیشی کمیشن رائل کمیشن نے جاری کی۔

رائل کمیشن کا اعلان نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈر آرڈرن نے 25 مارچ 2019 کو کیا تھا اور یہ اعلان مساجد میں حملے سے محض 10 دن بعد کیا گیا تھا۔

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر آسٹریلوی نژاد سفید فارم دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے 15 مارچ 2019 کو حملہ کرکے 51 نمازیوں کو شہید جب کہ متعدد کو زخمی کردیا تھا، سفاکانہ دہشت گرد کو اسی دن نیوزی لینڈ پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ مبینہ طور پر تیسری مسجد پر حملے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔

اگلے ہی روز دہشت گرد پر الزامات عائد کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی اور ایک سال تک قانونی کارروائی چلنے کے بعد رواں برس 27 اگست کو اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین سزا سنائی گئی تھی۔

عدالت نے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ دہشت گرد کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کی کوئی مدت نہیں، دوسری معنوں میں اسے مرتے دم تک جیل میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اب مساجد میں دہشت گردی کے بدترین واقعے کی اعلیٰ تفتیشی رپورٹ کو بھی عام کردیا گیا، جس پر نیوزی لینڈ سمیت دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔

اگرچہ رپورٹ میں مجموعی طور پر 10 ابواب ہیں، تاہم رپورٹ میں الگ ابواب بھی شامل ہیں اور رپورٹ میں دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کی زندگی کے جائزے سمیت نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے پس منظر پر بھی پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رائل کمیشن نے کس طرح رپورٹ کی تفتیش کی اور دوران تفتیش کس طرح کے شواہد کا جائزہ لیا گیا، رپورٹ کے آخری و دسویں باب میں نیوزی لینڈ حکومت کو دہشت گردی کے ایسے واقعات کو روکنے کی تجاویز بھی دی گئی ہیں اور ان تجاویز کی تعداد 40 سے زائد ہے۔

ان تجاویز میں حکومت کو ایک ایسی منفرد خفیہ ایجنسی بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جو لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ کر دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کو قبل از وقت روکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

کمیشن کی رپورٹ میں نیوزی لینڈ میں سیکیورٹی اداروں کی کمزوریوں، اداروں میں پائی جانے والی نسلی و مذہبی تفریق کو بھی سامنے لایا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ جس وقت مسلمانوں پر حملہ ہوا، عین اسی وقت نیوزی لینڈ کی سیکیورٹی ایجنسیاں انتہاپسندی کی کھوج میں لگی ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی ادارے نام نہاد انتہاپسندوں پر نظر رکھے ہوئے تھے اور انہیں ہی خطرہ سمجھ رہے تھے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مساجد پر ہونے والے حملوں کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی اداروں اور پولیس نے سفید فام بالادستی کے انتہاپسندوں سمیت دیگر انتہاپنسدوں کو نظر انداز کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی اداروں نے مساجد پر حملے سے محض 8 منٹ قبل حملے کا انتباہ اس وقت جاری کیا جب دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے آن لائن میمو جاری کیا تھا اور اتنے کم وقت میں حملوں کو روکنا ناممکن تھا۔

رائل کمیشن کی یہ رپورٹ ویب سائٹ پر موجود ہے جب کہ جلد ہی اس کے اردو سمیت دیگر 12 زبانوں کے ترجمے بھی عام کردیے جائیں گے۔

تفتیش کرنے والی ٹیم نیوزی لینڈ کی سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کام کر رہی تھی جب کہ اس میں متعدد ممالک میں خدمات سر انجام دینے والے سفیر، سیکیورٹی و خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام، سرکاری اعلیٰ عہدیدار اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

حکومت نے رائل کمیشن کا اعلان کرتے ہوئے عام لوگوں کو بھی دعوت دی تھی کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح تفتیش میں حکومت کی مدد کر سکتے ہیں تو وہ بھی کمیشن کا حصہ بنیں۔

رپورٹ کو عام کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے 7 دسمبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی غفلت اور غلطیوں کا اعتراف کیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جیسنڈا آرڈرن نے پریس کانفرنس کے دوران رائل کمیشن کی رپورٹ پر بات کی اور کہا کہ حکومت کمیشن کی تجویز کے مطابق ایک خصوصی خفیہ ایجنسی کا قیام عمل میں لائے گی۔

جیسنڈا آرڈرن نے رپورٹ میں بتائی گئی اس بات پر مسلمانوں سے بھی معذرت کی کہ نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی ادارے مسلمانوں پر دہشت گردی کا شک کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ باعث شرم ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیاں انتہاپسندوں پر نظر رکھتی رہیں اور سفید فام بالادست دہشت گرد نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ رائل کمیشن کی رپورٹ میں ایسی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی کہ کس طرح مساجد پر حملے کو روکا جا سکتا تھا۔

جیسنڈا آرڈرن کے مطابق تاہم رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ایسا ادارہ ہوتا جو اس طرح کے واقعات پر نظر رکھتا تو عین ممکن ہے کہ واقعے کو روکا جا سکتا تھا۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی طرح وہاں کے حزب اختلاف کے سیاستدانوں سمیت مسلمانوں کی تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی رائل کمیشن کی رپورٹ پر بات کی ہے اور مسلم تنظیموں کے عہدیداروں کے مطابق رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں نسلی تفریق پائی جاتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں