مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کا فوجیوں کے لیئے خصوصی کالونیاں بنانے کا اعلان، حریت رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کردیا

مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کا فوجیوں کے لیئے خصوصی کالونیاں بنانے کا اعلان، حریت رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کردیا

مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے بھارتی فوجیوں اور ان کے اہلخانہ کیلئے مقبوضہ علاقے میں خصوصی کالونیوں کی تعمیر کے نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے نئے اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی حکومت نے سابق بھارتی فوجیوں کیلئے کالونی کی تعمیر کے لیے ضلع بڈگا م میں 2سو کنال اراضی کی نشاندلی کر لی ہے۔

حریت رہنماؤں اور تنظیموں شبیر احمد ڈار، بلال احمد صدیقی اور تحریک وحدت اسلامی نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں بھارتی حکومت کے مذموم اقدام کیخلاف بھر پور مزاحمت کرنے کے کشمیریوں کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس اقدام کو اسرائیلی طرز کا نوآبادیاتی ہتھکنڈ ہ قرار دیا جسکا مقصد جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دینا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک 11ہزار231 خواتین کی بے حرمتی کی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کنن پوش پورہ میں اجتماعی عصمت دری، شوپیاں میں دو خواتین کی اور کٹھوعہ میں ایک کمسن بچی کی بے حرمتی اور قتل اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ بھارت کس طرح حق خودارادیت کے مطالبے پر کشمیری عوام کی تذلیل کرنے کے لئے عصمت دری کو فوجی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

رپورٹ میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن پروفیسر ولیم بیکر کا حوالہ دیا گیا جنہوں نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے 52 ویں کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عصمت دری انفرادی واقعات کا معاملہ نہیں بلکہ بھارتی افواج کشمیری عوام کی تذلیل کرنے اور خوف ودہشت پھیلانے کے لئے ایک ہتھکنڈے کے طورپراستعمال کررہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں