اسرائیلی انتہا پسند یہودی گروپوں نے مسجد اقصیٰ کے مشرقی حصے میں نئی کھدائیاں شروع کردیں

اسرائیلی انتہا پسند یہودی گروپوں نے مسجد اقصیٰ کے مشرقی حصے میں نئی کھدائیاں شروع کردیں

فلسطینی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے اسرائیلی ریاستی سرپرستی میں انتہا پسند یہودی گروپوں نے مسجد اقصیٰ کے مشرقی حصے میں نئی کھدائیاں شروع کی ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی کھدائیوں اور یہودی آباد کاری کے امور کے ماہر فخری ابو دیاب نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کی مشرقی سمت میں اسرائیل کی ‘العاد’ نامی ایک تنظیم نے خطرناک نوعیت کی کھدائیاں کی ہیں۔

ابو دیاب کا کہنا تھا کہ حالیہ ایام میں عین العذرا کے مقام پر باب رحمت میں مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار کے نیچے 100 سے 150 میٹرفاصلے پر نئی کھدائیاں کی گئی ہیں۔ یہ کھدائیاں ایک سرنگ کی شکل میں ‌ہیں جو مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار کی بنیادوں کے قریب ہیں۔

ابو دیاب نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار کے قریب خفیہ طورپر کی جانے والی کھدائیاں خطرناک پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے قریب کھدائیوں کی کارروائی ‘العاد’ نامی ایک گروپ کررہا ہے جہاں سے بڑی مقدار میں مٹی نکالی گئی ہے۔ اس مٹی اور ملبے کا اخراج وہااں پرہونے والی خطرناک کھدائیوں کا واضح ثبوت ہے۔

ابو دیاب کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایک یہودی گروپ کو مسجد اقصیٰ کی مشرقی سمت کھدائیوں کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ صہیونی ریاست کی سرپرستی حاصل ہے۔ دوسری طرف فلسطینیوں کو اس علاقے میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے یہ ایک اہم مقام ہے جہاں پر کنعانی، عثمانی اور کئی گذشتہ ادوار کی باقیات اور ہزاروں سال پرانے آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں، یہاں ‌پر پرانے دور کے پتھر ہیں جن میں سے بعض کئی ہزار ٹن وزنی ہیں، بعض 10 میٹر لمبے اور ایک میٹر چوڑے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں