بھارت کی انتہا پسند تنظیم نے گاندھی کے قاتل کو ہیرو قرار دے دیا

بھارت کی انتہا پسند تنظیم نے گاندھی کے قاتل کو ہیرو قرار دے دیا

نئی دہلی (پاک صحافت) بھارت کی انتہا پسند تنظیم ہندومہاسبا نے انڈین نیشنل کانگریس اور آزاد بھارت کے سربراہ موہن داس گاندھی  کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو ہیرو قرار دے دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق نتھو رام گوڈسے کی یاد میں ایک تعلیمی مرکز کا افتتاح کیا گیا ہے جس میں کئی قوم پرست ہندوؤں نے شرکت کی۔

برطانوی اخبار کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں گوڈسے گاین شالا کے نام سے ایک تعلیمی مرکز قائم کیا گیا جس کا مقصد گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کی یاد منانا تھا۔

نتھو رام گوڈسے کی یاد میں تعلیمی مرکز ہندو قوم پرست جماعت ہندو مہاسبا نے قائم کیا ہے، گاندھی کے قاتل گوڈسے کا تعلق بھی اسی جماعت سے تھا، ہندو مہاسبا کے تحت کئی مقامات پر گوڈسے کا مجسمہ نصب کیا گیا اور گوڈسے کے نام پر کئی مندر بھی قائم کیے گئے۔

اس موقع پر ہندو مہاسبا کے نیشنل سیکریٹری دیویندرا پانڈے کا کہنا تھا کہ گاندھی کو قتل کرنا گوڈسے کا درست اقدام تھا، بھارت پر صرف ہندوؤں کا حق ہے اور اس میں رہنے والے مسلمانوں کو پاکستان منتقل ہو جانا چاہیے۔

گوڈسے نے گاندھی کو اس لیے قتل کیا کیونکہ گاندھی نے بھارت کو دھوکا دیا تھا، پانڈے کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کو سکھائیں گے کہ گوڈسے قاتل کے بجائے ایک سچا قوم پرست تھا۔

واضح رہے کہ بی جے پی کی حکومت کے دوران گزشتہ چند برسوں سے نتھو رام گوڈسے کو گاندھی کے قاتل کے بجائے محب وطن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے سال 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندو قوم پرستی ملکی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہے اور گاندھی کا سیکولر بھارت کا نظریہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں