بھارتی دہشت گرد ہندوؤں کا تاج محل پر حملہ، میناروں پر ہندو پرچم لہرانے کی ناکام کوشش کی گئی

بھارتی دہشت گرد ہندوؤں کا تاج محل پر حملہ، میناروں پر ہندو پرچم لہرانے کی ناکام کوشش کی گئی

آگرہ (پاک صحافت) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں و اقع تاج محل پر ہندو دہشت گردوں نے حملہ کردیا اور اس کے میناروں پر ہندو پرچم لہرانے کی ناکام کوشش کی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں و اقع تاج محل پر ہندو دہشت گردوں نے حملہ کردیا اور اس  کے میناروں پر ہندو پرچم لہرانے کی کوشش کی، دنیا کے عجوبوں میں شمار ہونے والے مغل فن تعمیر کے شاہ کار پر ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں نے دھاوا بول دیا اور اس کے گنبدوں پر زعفرانی پرچم لہرانے کی کوشش کی۔

اطلاعات کے مطابق منگل کو ہندو جاگرن منچ نامی انتہا پسند ہندو تنظیم کے چار کارکنوں کو تاج محل کے احاطے سے گرفتار کیا گیا، تاج محل پر تعینات سرکاری اہل کاروں نے انتہا پسندوں کو قابو کرکے پولیس کے حوالے کیا۔

تاج گنج پولیس تھانے کے انسپیکٹر کے مطابق دائیں بازوں کے ایک رہنما گورو ٹھاکر کی قیادت میں تین افراد نے تاج محل کے احاطے میں زعفرانی پرچم لہرانے کی کوشش کی۔

ایس ایس پی ببلو کمار کے مطابق تاریخی مقام پر پرچم لہرانے والے ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے جُرم میں مقدمہ درج کردیا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد نے تاج محل کی عمارت میں شیو چالیسا کا پاٹ بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو تاج محل کے اندر شیو پوجا کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے بھارت میں مغل دور کی مختلف تاریخی عمارتوں سے متعلق یہ مہم چلائی جارہی ہے کہ یا تو یہ کسی مندر یا عبادت گاہ کو گرا کر تعمیر کی گئی ہیں یا انہیں تعمیر کرنے والے ہندو تھے اور مسلمانوں ںے ان پر قبضہ جمالیا۔

تاج محل، دہلی اور آگرہ کے لال قلعے کے بارے میں ایسے دعوے پہلے بھی موجود تھے تاہم انہیں شد و مد سے میڈیا میں بیان کیا جارہا ہے۔

تاج محل کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ دراصل ’’تیجومہالیہ‘‘ ہے جو ہندو دیوتا شیو کا مندر تھا جس پر تاج محل تعمیر کردیا گیا، حالانکہ 2015 میں بھارت کی وفاقی حکومت پارلیمان میں اس دعوے کے عدم ثبوت کا اعتراف کرچکی ہے تاہم انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے پراپیگنڈا جاری ہے اور چند ماہ کے عرصے میں تاج محل پر ہندو مذہب کی علامت سمجھے جانے والے زعفرانی پرچم لہرانے کی یہ دوسری کوشش ہوچکی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں