مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سازش ناکام، مودی مخالف سیاسی جماعتوں نے بی جے پی کے خلاف کامیابی حاصل کرلی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سازش ناکام، مودی مخالف سیاسی جماعتوں نے بی جے پی کے خلاف کامیابی حاصل کرلی

بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے جبری الحاق کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں کا اتحاد مقامی حکومتوں کے انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ نئی دہلی کی جابرانہ حکومت کے خلاف فیصلہ ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق فاروق عبداللہ کی سربراہی میں گپکار اعلامیے کے لیے پیپلز الائنس جو کہ مقامی انتخابات میں بڑی کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے اس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان کی بات چیت کی حمایت کی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے پہلے ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات میں مقامی جماعتیں وادی میں اکثریت حاصل کرہی ہیں جبکہ جموں ریجن میں بی جے پی کا پلڑا بھاری ہے۔

گپکار الائنس میں مقبوضہ کشمیر کی 7 جماعتیں شامل ہیں اور حریف جماعتیں نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) بھی شامل ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق نتائج سے یہ پتہ چلا ہیکہ گپکار الائنس 114 نشستوں پر کامیاب ہوا ہے جبکہ بی جے پی 72 نشستوں پراور کانگریس 26 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

جموں ریجن میں بی جے پی کو 69 نشستیں جب کہ الائنس 35 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے، کشمیر ریجن میں علاقائی اتحاد 79 نشستوں پر کامیاب رہا ہے جبکہ بی جے پی 3 نشستوں پر ہی کامیابی حاصل کرپائی۔

واضح رہے کہ ان مقامی انتخابات کے دوران 280 نشستوں، 20 اضلاع میں سے ہر ضلع کی 14 نشستوں پر، ووٹنگ 8 مراحل میں 25 روز تک جاری رہی۔

قابل ذکر ہیکہ گپکار روڈ جہاں تمام سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی رہائش گاہیں ہیں وہاں جشن کے کوئی آثار نظر نہیں آئے اور نہ ہی کسی نے اپنے امیدوار کی مم چلائی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے امیدواروں کو مہم چلانے نہیں دی گئی اور سیکیورٹی حصار میں قید رکھا جبکہ مرکزی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔

کامیاب امیدواروں میں شامل پی ڈی پی کے یوتھ پریزیڈنٹ وحید پارا بھی شامل ہیں جنہیں وادی کشمیر کے علاقے پلوامہ سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد نیشنل انویسٹگیشن ایجنسی نے عسکریت پسندوں سے رابطوں کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ گپکار الائنس گزشتہ برس 5 اگست کو بڑی آئینی تبدیلیوں کے خلاف احتجاجی طور پر تشکیل دیا گیا تھا، ان آئینی تبدیلیوں کے تحت مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا گیا تھا اور اس کے بعد اس علاقے کو 2 یونین اکائیوں میں بدل دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں