بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر کے قبائلی خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کردیا

بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر کے قبائلی خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کردیا

مقبوضہ کشمیر میں محکمۂ جنگلات اور محکمۂ مال کے حکام نے گجر اور بکروال خاندانوں کے جنگلات کی اراضی پر تعمیر کچے گھروں کو مسمار کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کی مہم کا دائرہ بڑھا دیا ہے، اس مہم کا آغاز جموں و کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع پہلگام حلقے کے لِدرو اور مامل نامی علاقوں سے کیا گیا تھا۔

کشمیر کے گجر اور بکروال قبائلی خاندان صدیوں سے ہمالیائی ریاست کےجنگلات کی اراضی پر تعمیر کچے گھروں میں، جنہیں مقامی طور پر ‘کوٹھے’ کہتے ہیں، رہائش پذیر ہیں، مہم کے دوران ایک کنبے کے لگائے گئے سیب کے سیکڑوں درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔

ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خانہ بدوش کنبے موسم گرما کے آغاز پر اپنے مال مویشیوں سمیت جموں کے میدانی علاقوں سے وادیٔ کشمیر کے بالائی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں اور یہاں پانچ سےچھ ماہ گزارنے کے بعد واپس جموں کے راجوڑی اور دوسرے میدانی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

یہ وادیٔ کشمیر کے ان بالائی علاقوں میں پتھر اور لکڑی کی بنی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں، تاہم برف باری کے آغاز سے پہلے ہی وہ یہ علاقہ چھوڑ کر نسبتاً گرم علاقوں کی راہ لیتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی مختلف حزبِ اختلاف جماعتوں اور سماجی و انسانی حقوق تنظیموں نے اس مہم کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی قرار دے کر شدید احتجاج کیا ہے، سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ان علاقوں میں جاکر متاثرین سے یکجہتی کااظہار کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ قبائلی خاندانوں کے خلاف یہ مہم ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی سر پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی مسلم دشمنی کی عکاس ہے، جس کا مقصد جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی ‘اراضی قوانین’ میں حال ہی میں کی گئی ترامیم اور نئی شقوں کا اندراج اور ایک کے بعد دوسرے نئے قوانین کا نفاذ بھی اسی مقصد کے تحت ہو رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں جموں و کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کر کے تمام بھارتی شہریوں کو وادی میں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا ہے۔

اس کے خلاف احتجاج میں جہاں مختلف بھارت نواز سیاسی جماعتیں جو مقامی سیاسی اصطلاع میں بھارت کے مرکزی دھارے میں شامل جماعتیں کہلاتی ہیں، پیش پیش رہی ہیں۔

وہیں استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں نے نئے قوانینِ اراضی کو بھارت کی حکومت کی ان کوششوں کی تازہ کڑی قرار دیا جن کا مقصد ریاستی عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل اور مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

پہلگام کے مامل علاقے کے ایک شخص فردوس احمد نے بتایا کہ وہ جنگلات کی اراضی پر نسل در نسل آباد ہیں، اب انہیں طاقت کے زور پر بے دخل کیا جا رہا ہے اور یہ سوچے بغیر کہ ہم اس شدید سردی میں کہاں جائیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے گھروں کو اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا تنبیہ کے مسمار کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں