بھارت، مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر بھر جیل میں رکھنے کا ناپاک منصوبہ بنا رہا ہے

بھارت، مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر بھر جیل میں رکھنے کا ناپاک منصوبہ بنا رہا ہے

مقبوضہ کشمیرمیں بھارت حریت رہنماء آسیہ اندرابی کو انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عمر بھر جیل میں قید رکھنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دلی کی ایک تابع مہمل عدالت کی طرف سے آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے تازہ حکم نامے سے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت آسیہ اندرابی جیسے لوگوں کو جو اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کو چیلنج کرر ہے ہیں نشانہ بنانے کیلئے عدالتوںکو استعمال کر رہا ہے ۔

آسیہ اندرابی کی آزادی پسند سرگرمیوں نے بھارتی قابض انتظامیہ کو ہمیشہ بوکھلاہٹ کا شکار کیا ہے، ان کے جذبہ آزادی کو کمزوری کرنے کیلئے ان کے شوہر ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو تادم مرگ قید کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم کشمیر کی آئرن لیڈی کے طورپر آسیہ اندرابی نے بھارت کی سازش کا شکار ہونے سے انکار کردیا ہے اور وہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود دو ساتھیوں کے ہمراہ نئی دلی کی تہاڑ جیل میں اپنی غیر قانونی گرفتاری کا پامردی سے مقابلہ کر رہی ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جار ی ایک بیان میں گزشتہ سال 5اگست سے پہلے اور اس کے بعد مودی حکومت کی طرف سے گرفتار کئے گئے ہزاروں کشمیریوں کی حالت زار پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور انکی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور دیگر بھارتی جیلوں میں متعصب ہندو جیلر حریت رہنمائوں، کارکنوں اور نوجوانوں سمیت کشمیری نظربندوں کو غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ نظربندوں سے ظالمانہ سلوک قیدیوں کے حقوق کے بارے میں جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے ، انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقو ق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔

ادھر جموں و کشمیر پیپلز لیگ اور جموں و کشمیر تحریک مزاحمت کے وفود پلوامہ، شوپیاں اور سرینگر میں متاثرہ کشمیری خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیلئے ان کے گھروں میں گئے۔

 اس موقع پر انہوں نے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو ہر قیمت پر اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جموں و کشمیر ایمپلائیز موومنٹ نے ایک بیان میں کہاہے کہ پولیس کی طرف سے شوپیاں جعلی مقابلے میں کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کے ساتھ بھارتی فوج کی جانب سے ہتھیار رکھنے کے اعتراف سے ظاہر ہوتاہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے۔

سرینگر اور دیگر علاقوں میں ایک بارپھر پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں کشمیری عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف متحد ہو کر اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں۔

انسانی حقوق کے علمبردار محمد احسن اونتو نے کہاہے کہ گزشتہ سال اگست کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے شہریوں کی املاک کی تباہی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں